رسائی کے لنکس

شام: حلب یونیورسٹی میں بم دھماکے، 15 افراد ہلاک


شام کے تاریخی شہر حلب کے ایک نواحی علاقے میں ایک باغی جنگجو سرکاری افواج کے حملے کا جواب دے رہا ہے

شام کے تاریخی شہر حلب کے ایک نواحی علاقے میں ایک باغی جنگجو سرکاری افواج کے حملے کا جواب دے رہا ہے

شام کے سرکاری ٹی وی اسٹیشن نے دھماکوں کو "دہشت گردوں کا حملہ" قرار دیا ہے۔

انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم ایک شامی تنظیم کے مطابق ملک کے سب سے بڑے شہر حلب کی مرکزی جامعہ میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی حزبِ اختلاف کی حامی تنظیم 'سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' کے مطابق تاحال کسی تنظیم نے منگل کو ہونے والے ان دونوں دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

شام کے سرکاری ٹی وی اسٹیشن نے دھماکوں کو "دہشت گردوں کا حملہ" قرار دیا ہے۔ تاہم سرکاری ذرائع ابلاغ نے دھماکوں کی تفصیلات اور ہلاکتوں کے متعلق کچھ نہیں بتایا۔

شام میں معاشی سرگرمیوں کا مرکز تاریخی شہر حلب جولائی 2012ء سے بدترین تشدد کی لپیٹ میں آیا ہوا ہے جب باغیوں نے یہاں سےصدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد شروع کی تھی۔

دھماکوں کا نشانہ بننے والی یونیورسٹی حکومت کے زیرِ انتظام علاقے میں قائم ہے۔

آبزرویٹری' کے مطابق شام کے دیگر علاقوں میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات اور سرکاری افواج اور باغیوں کے مابین جھڑپوں میں منگل کو 50 سے زائد افراد مارے گئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کا دعویٰ ہے کہ شام میں 21 ماہ سے جاری چپقلش اور خانہ جنگی میں اب تک 60 ہزار کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
XS
SM
MD
LG