رسائی کے لنکس

شاہ نورانی درگاہ دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 54 ہو گئی

  • ستار کاکڑ

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان کے ضلع خضدار میں درگاہ شاہ نورانی میں دھماکے سے ہلاکتوں کی تعداد 54 ہو گئی ہے۔

حکام اور عینی شاہد ین نے بتایا ہے کہ حب شہر سے تقر یباً سو کلو میٹر کی دور ی پر واقع سخی شاہ نورانی کے مزار کے احاطے میں بم دھماکہ اُس وقت ہوا جب وہاں دھمال ڈالی جا رہی تھی اور سینکڑوں عقیدت مند وہاں موجود تھے۔

طاقت ور باردی دھماکے کی وجہ سے زیادہ تر ہلاکتیں موقع پر ہی ہو ئیں ، جبکہ بیسیوں زخیموں میں کئی کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ زخمیوں کو امدادی ٹیموں کے ذریعے کر اچی اور حب اسپتالوں میں روانہ کر دیا گیا۔

ڈاکٹروں نے ابتدائی معائنے کے بعد بعض زخمیوں کی حالت انتہائی تشویش قراردیتے ہوئے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سینکڑوں افراد دھمال ڈالنے والوں کے اردگرد موجود تھے کہ اسی اثنا میں زوردار دھماکہ ہوا جس کی زد میں متعدد خواتین اوربچے بھی آئے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ قر یبی علاقوں میں طبی امداد کی فراہمی کے لئے کو ئی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے کر اچی سے آنے والی امداد ی ٹیموں کو موقع پر پہنچنے میں کافی وقت لگا ۔

پاکستانی فوج کے تر جمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے میڈیا کو بھیجے گئے ایک بیان میں بتایا ہے کہ امدادی سر گرمیوں میں مدد کےلئے موقع پر فوج کی طرف سے طبی ٹیم اور جوانوں کوروانہ کیا گیا لیکن علاقے میں ہیلی کاپٹر کے اترنے کی جگہ نہ ہونے کی وجہ سے زخمیوں کی ہیلی کاپٹر کے ذریعے منتقلی ممکن نہ ہوسکی ۔

ایمبولینسوں کی کمی کے باعث مزار پر آنے والے زائرین نے اپنی نجی گاڑیوں میں ہلاک ہونے والے افراد اور زخمیوں کو اسپتالوں میں منتقل کیا۔

مزار پر ہر ہفتے اور اتوار کی رات کو عقیدت مندخصوصی عبادت کےلئے جمع ہو جاتے ہیں ۔اور وہاں خواتین اور بچے بھی روایتی دھمال میں حصہ لے کر اپنی عقیدت مندی ظاہر کر تے ہیں ۔

دھماکے کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ (داعش )نے قبول کی ہے۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ دھماکہ پہلے سے نصب شدہ بم سے کیا گیا یا کسی خودکش بمبار کی کاروائی تھی۔

جس علاقے میں سخی شاہ نورانی کا مزار ہے وہ صوبائی دارلحکومت کوئٹہ سے تین سو کلو میٹر دور جنوب مشرق میں واقع ہے ۔

XS
SM
MD
LG