رسائی کے لنکس

جیکب آباد: ریلوے ٹریک پر دھماکہ،20 سے زائد مسافر زخمی


تازہ واقعے میں جیکب آباد کی تحصیل ٹھل میں ریلوے ٹریک پر عین اس وقت دھماکا ہوا جب خوشحال خان ایکسپریس وہاں سے گزر رہی تھی۔ دھماکے سے ٹرین کی چار بوگیاں پٹری سے اترگئیں جس کے نتیجے میں 20 سے زائد مسافر زخمی ہوئے

کراچی ۔۔۔ اندرون سندھ ایک مرتبہ پھر ریلوے ٹریک اور ٹرینیں تخریب کاروں کے نشانے پر ہیں۔ گزشتہ 14دنوں کے دوران، ریلوے ٹریک کو اڑانے کے تین واقعے پیش آ چکے ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق، جمعرات کو پیش آنے والے تازہ واقعے میں جیکب آباد کی تحصیل ٹھل میں ریلوے ٹریک پر عین اس وقت دھماکا ہوا جب خوشحال خان ایکسپریس وہاں سے گزر رہی تھی۔ دھماکے سے ٹرین کی چار بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، جس کے نتیجے میں 20 سے زائد مسافر زخمی ہوگئے۔

اس سے ایک ہی روز قبل، یعنی بدھ کو بھی جیکب آباد ہی میں نامعلوم افراد نے سکھر ایکسپریس کو آگ لگادی جس سے ایک بوگی جل کر خاکستر ہوگئی۔ ٹرین جیکب آباد سے کراچی آنے کے لئے کھڑی تھی۔

ریلوے پولیس نے تصدیق کی ہے کہ کراچی سے پشاور جانے والی خوشحال خان ایکسپریس جب جیکب آباد کی تحصیل ٹھل کے دل مراد ریلوے اسٹیشن پہنچی تو ٹریک پر زوردار دھماکا ہوا۔ دھماکے سے ٹریک پر تین فٹ لمبا گڑھا پڑگیا، جبکہ ٹریک کو عارضی طور پرکچھ گھنٹوں کے لئے بند کرنا پڑا۔

دھماکے کے بعد قریبی شہر لاڑکانہ سے بم ڈسپوزل اسکواڈ کے ماہرین جائے وقوع پر پہنچے اور جگہ کا معائنہ کیا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے انسپکٹر بدرالدین شیخ کے مطابق، بم سات سے آٹھ پانڈ وزنی تھا۔

خوشحال خان ایکسپریس کو دو مرتبہ پہلے بھی نشانہ بنایا جاچکا ہے، جبکہ سکھر ایکسپریس کو اب سے پہلے تین مرتبہ نذرآتش کیا جاچکا ہے۔ آخری مرتبہ خوشحال خان ایکسپریس کو 29جنوری کو نشانہ بنایا گیا تھا، یعنی صرف 14دن پہلے۔

ماہرین کے مطابق، بم ریلوے ٹریک کے نیچے نصب کیا گیا تھا جبکہ اسے اڑانے کے لئے ریموٹ کنٹرول استعمال کیا گیا۔

بدھ کے واقعے میں سکھر ایکسپریس کی بوگی نمبر 12 میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ واقعے کے فوری بعد، فائر بریگیڈ کو طلب کرلیا گیا۔ تاہم، اس کی آمد تک بوگی نمبر 12پوری طرح جل چکی تھی۔ آگ بجھانے کی کوشش کے دوران ایس پی ریلوے، وزیر علی سیلرو سمیت دو افراد زخمی ہوگئے۔

XS
SM
MD
LG