رسائی کے لنکس

افغانستان: بم دھماکوں میں کم ازکم نو پولیس اہلکار ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

حملہ آور پولیس کی وردی میں ملبوس تھا اور اس نے پولیس ہیڈکوارٹرز میں داخل ہو کر خود کو دھماکے سے اڑایا۔ مرنے والوں میں ایک اعلیٰ افسر بھی شامل ہے

افغانستان میں پیر کو ہونے والے تین بم دھماکوں میں کم ازکم نو پولیس اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔

مشرقی صوبہ لوگر میں گورنر کے ترجمان دین محمد درویش کے مطابق مرکزی شہر پل علم میں ایک خودکش بم دھماکے میں چھ پولیس اہلکار مارے گئے۔

ان کے بقول حملہ آور پولیس کی وردی میں ملبوس تھا اور اس نے پولیس ہیڈکوارٹرز میں داخل ہو کر خود کو دھماکے سے اڑایا۔ مرنے والوں میں ایک اعلیٰ افسر بھی شامل ہے جب کہ عام شہری اس میں زخمی ہوا۔

دوسرا دھماکا صوبہ ننگرہار کے شہر جلال آباد میں ہوا۔ حکام کے مطابق یہاں بظاہر موٹر سائیکل رکشہ میں نصب ایک بم میں اس وقت دھماکا کیا گیا جب وہاں سے پولیس اہلکار گزر رہے تھے۔ واقعے میں تین اہلکار مارے گئے۔

دارالحکومت کابل میں ایک یونیورسٹی کے قریب پھولوں کی کیاری میں رکھا بم پھٹنے سے کم ازکم تین افراد زخمی ہوگئے۔

طالبان نے مشرقی افغانستان میں ہونے والے دو بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ایک روز قبل بھی کابل میں انتہائی حفاظتی حصار والے علاقے میں واقع پولیس ہیڈکوارٹرز میں فوج کی وردی میں ملبوس ایک حملہ آور نے خودکش دھماکا کیا تھا جسے ایک پولیس افسر ہلاک ہوگیا تھا۔

طالبان کی طرف سے پرتشدد کارروائیوں خصوصاً سکیورٹی فورسز اور سرکاری املاک پر ہلاکت خیز حملوں میں حالیہ مہینوں کے دوران اضافہ دیکھا گیا ہے۔

آئندہ ماہ کے اواخر تک تمام غیر ملکی افواج کی افغانستان سے اپنے وطن واپسی کے تناظر میں طالبان کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کو تشویشناک امر قرار دیا جارہا ہے۔

امریکہ نے افغانستان کے ساتھ ایک دوطرفہ سکیورٹی معاہدہ کر رکھا ہے جس کے تحت 2014ء کے بعد بھی یہاں نو ہزار کے قریب امریکی فوجی موجود رہیں گے جو مقامی سکیورٹی فورسز کو تربیت اور انسداد دہشت گردی میں معاونت فراہم کریں گے۔

XS
SM
MD
LG