رسائی کے لنکس

سیپ بلاٹر پانچویں بار 'فیفا' کے صدر منتخب


سیپ بلاٹر صدر منتخب ہونے کے بعد کانگریس کے ارکان کا شکریہ ادا کر رہے ہیں

سیپ بلاٹر صدر منتخب ہونے کے بعد کانگریس کے ارکان کا شکریہ ادا کر رہے ہیں

صدر منتخب ہونے کے بعد کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے سیپ بلاٹر نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر 2018ء اور 2022ء کے عالمی مقابلوں کی میزبانی کے لیے روس اور قطر کا انتخاب نہ کیا جاتا تو 'فیفا' کو "یہ سب نہ جھیلنا پڑتا۔"

بین الاقوامی فٹ بال کی منتظم ادارے 'فیفا' کی مرکزی کانگریس کے ارکان نے سیپ بلاٹر کو پانچویں بار ادارے کا صدر منتخب کرلیا ہے۔

بلاٹر کا انتخاب سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں جاری 'فیفا کانگریس' کے سالانہ اجلاس کے دوران جمعے کو کیا گیا۔

ووٹنگ کے پہلے مرحلے کے دوران بلاٹر کو 133 ووٹ ملے جب کہ انہیں دوسرے مرحلے سے بچنے کے لیے کم از کم 140 ووٹ درکار تھے۔

لیکن دوسرے مرحلے سے قبل ہی ان کے حریف امیدوار اردن کے شہزادے علی بن الحسین نے مقابلے سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا جس کے بعد بلاٹر کو فتح یاب قرار دے دیا گیا۔

اپنے انتخاب کے بعد کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے نومنتخب صدر نے اظہارِ اعتماد کرنے پر'فیفا کانگریس' کے ارکان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اپنے حریف امیدوار شہزادہ علی کی بھی تعریف کی اور کہا کہ 'فیفا' میں اصلاحات متعارف کرانے کے لیے ان کا عزم قابلِ رشک ہے۔

اپنے خطاب میں سیپ بلاٹر نے وعدہ کیا کہ وہ 'فیفا' کو حالیہ بحران سے نکال کر کھیلوں کی دنیا میں دوبارہ ایک باعزت اور معتبر مقام دلائیں گے۔

'فیفا' کے صدر کے انتخاب سے ایک روز قبل ہی امریکی حکومت نے تنظیم کے سات اعلیٰ عہدیداران پر بدعنوانی اور رشوت ستانی کے الزامات میں فردِ جرم عائد کی تھی۔

اپنے خطاب میں نومنتخب صدر کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر 2018ء اور 2022ء کے عالمی مقابلوں کی میزبانی کے لیے روس اور قطر کا انتخاب نہ کیا جاتا تو 'فیفا' کو "یہ سب نہ جھیلنا پڑتا۔"

خیال رہے کہ امریکہ بھی 2022ء کے ورلڈ کپ کی میزبانی کا امیدوار تھا لیکن قطر کے انتخاب نے امریکی حکام کی امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا۔بعض حلقوں کا الزام ہے کہ امریکہ اور دیگر یورپی ممالک 'فیفا' حکام کے خلاف انتقامی کارروائی کر رہے ہیں۔

سیپ بلاٹر نے کہا کہ رواں ہفتے پیش آنے والے واقعات نے فٹ بال کی دنیا میں ایک طوفان کھڑا کردیا ہے جس کا مقابلہ 'فیفا' میں اتحاد کو فروغ دے کر ہی کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فٹ بال کی عالمی تنظیم کے صدر کی حیثیت سے وہ خود کو ہر طرح کے احتساب کے لیے پیش کرتے ہیں۔

امریکی حکام نے رواں ہفتے 'فیفا' کے 14 اہم ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کیا تھا جنہوں نے، امریکی حکام کے بقول، 2018ء اور 2022ء کے مقابلوں کے میزبان ملکوں کے انتخاب اور مقابلوں کی مارکیٹنگ کے حقوق کی نیلامی کے لیے رشوت لی تھی۔

امریکہ کی درخواست پر سوئٹزرلینڈ کے حکام بھی 'فیفا' کے ان عہدیداران کے خلاف تحقیقات کر رہے ہیں جہاں تنظیم کا مرکزی دفتر واقع ہے۔

الزامات سامنے آنے کے بعد یورپین فٹ بال ایسوسی ایشن، جرمن فٹ بال ایسوسی ایشن، برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون سمیت کئی اہم تنظیموں اور شخصیات نے سیپ بلاٹر سے اخلاقی بنیادوں پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا جسے انہوں نے مسترد کردیا تھا۔

سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والے سیپ بلاٹر جون 1998ء میں پہلی بار 'فیفا' کے صدر منتخب ہوئے تھے جس کے بعد 2002ء، 2007ء اور 2011ء کے انتخابات میں بھی 'فیفا' کی کانگریس کے ارکان نے انہیں دوبارہ منتخب کرلیا تھا۔

صدر منتخب ہونے والے سے قبل وہ 1981ء سے 'فیفا' کے سیکریٹری جنرل کی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔

'فیفا' کی کانگریس فٹ بال کی عالمی تنظیم کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے جس میں تنظیم کے 209 رکن ملکوں کو نمائندگی حاصل ہے۔

XS
SM
MD
LG