رسائی کے لنکس

ڈبل اسٹوری مکانات کے درمیان ایک پلاٹ پر ہندو برادری کے 200 مکانات اور جھوپڑیوں میں جمعرات کی صبح اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ آگ اس قدر شدید تھی کہ اس نے دیکھتے ہی دیکھتے لمحوں میں پوری جھوپڑ بستی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور چند گھنٹوں میں ہی سب کچھ راکھ اور کوئلے میں بدل گیا۔

کراچی کا علاقہ قیوم آباد ۔۔اور اس میں واقع جونیجو ٹاوٴن ۔۔گنجان آبادی کے درمیان، ڈیفنس کے پوش ایریا سے بہت قریب اور کورنگی انڈسٹریل ایریا سے متصل ہے۔

یہیں چار اور پانچ منزلہ فلیٹس اور ڈبل اسٹوری مکانات کے بالکل درمیان ایک وسیع پلاٹ بھی ہے جس پر بدھ کی رات تک ہندو برادری کے 200 سے کچھ زائد کچے مکانات اور جھوپڑیاں قائم تھیں۔ لیکن، جمعرات کی صبح10بجے جب ان گھروں کے مرد پاس کی فیکٹریوں میں مزدوری کی غرض سے گئے ہوئے تھے اور بیشتر خواتین بھی معمول کے مطابق چھوٹے موٹے کام کرنے کے لئے گھروں سے باہر تھیں اچانک ان گھروں میں آگ بھڑ اٹھی۔

آگ اس قدر شدید تھی کہ اس نے دیکھتے ہی دیکھتے لمحوں میں پوری جھوپڑ بستی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور چند گھنٹوں میں ہی سب کچھ راکھ اور کوئلے میں بدل گیا۔ جب تک ان گھروں کے مکین یہاں پہنچ کر کچھ کر پاتے آگ نے کپڑوں، الماریوں، موٹر سائیکل، سائیکل، پنکھوں، فرنیچر اور جو کچھ تھا اسے جلا کر بھسم کر دیا۔

اسی بستی کے ایک بائیس سالہ مکین درشن کمار نے وائس آف امریکہ کو بتایا ’یہاں 200سے زائد گھروں میں قریب 2000 لوگ رہتے ہیں، اب سے نہیں اس کی پیدائش سے بھی پہلے سے۔ سب کا تعلق اندرون سندھ اور کراچی سے ہے۔‘

درشن کمار نے جلے دل اور بجھے ہوئے لہجے میں بتایا ’ہندومت سے تعلق رکھنے والوں کی یہ بستی بڑی بدقسمت ہے۔ پانچ سال میں تیسری مرتبہ آگ کے ہی ہاتھوں اجڑ چکی ہے۔ آخر مرتبہ پچھلے سال اور اس سے پہلے سنہ 2013کے انتخابات کے اریب قریب بھی ایسی ہی آگ بھڑکی تھی کہ سب کچھ جل گیا تھا۔‘

وی او اے کے استفسار پر درشن کمار نے گمان ظاہر کیا ’آبادی کے درمیان بنا یہ پلاٹ بہت قیمتی ہے۔ کئی بار ’انجان چہروں‘ نے اسے خالی کرانے کے لئے زور ڈالا تھا اور ایک میدان میں منتقل ہونے کا مشورہ دیا تھا۔ مگر بسی بسائی دنیا اپنے ہاتھوں کیسے اجاڑتے۔ اس لئے، شک ہے کہ صبح سویرے یا رات کے اندھیرے میں نامعلوم افراد نے کیمیکل جھڑک کر آگ لگادی ہوگی۔ دن کا وقت تھا اگر شارٹ سرکٹ سے آگے لگتی تو پتہ چل جاتا سوتے میں کسی طرح آگ بھڑکتی تو بھی اتنی تیزی سے اتنا بڑا نقصان نہیں ہوتا۔ یہ کارستانی انہی لوگوں کی ہے جو اس پلاٹ کو بیچ کر راتوں رات امیر یا مزید امیر بننا چاہتے ہیں۔‘

ایک اور سوال پر درشن کمار اور انہی کی عمر کے ایک دوسرے نوجوان نانک رام کا کہنا تھا کہ ’پہلے والی آگ کے وقت بھی کسی نے مدد نہیں کی تھی ۔۔اب بھی آپ کے سامنے ہے۔ نہ حکومت کا کوئی کارندہ آیا نہ سول سوسائٹی والے ہی یہاں پہنچے۔ ہمارا تو ڈبل نقصان ہوا ہے میری پرچون کی دکان بھی یہیں تھی اور مکان بھی ۔۔دونوں کے اب صرف نشان باقی رہ گئے ہیں۔‘

صبح کے اوقات میں لگنے والی آگ پر سہ پہر تک قابو پالیا گیا۔اس وقت پوری بستی کسی کوئلے کے کان کا منظر پیش کرنے لگی تھی۔ شام کے سائے گھنے ہوتے ہوتے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت جلے ہوئے مکانات کے فرش صاف کر کر کے وہاں مانگے تانگے کی دریاں اور چادر بچھا کر رات بسر کرنے کے انتظامات کرلئے تھے۔

مغرب کی اذان سے ذرا پہلے ایک رفاعی وفلاحی ادارے ’سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ‘ کا موبائل دسترخوان وہاں پہنچ گیا جس کے پاس بڑی تعداد میں روٹیاں، سالن اور کھانے پینے کا دیگر سامان موجود تھا جو فری تقسیم کیا گیا۔ کہیں سے اور کسی کی مہربانی کے عوض پانی کا ایک ٹینکر بھی کھڑا کر دیا گیا۔ لیکن، اس بھیانک واقعے کے معائنے کی غرض سے بقول درشن کمار: ’نہ تو کوئی وزیر آیا نہ وزیر اعلیٰ آیا۔۔۔ نہ کہیں کا گورنر۔ واقعے میں ’صرف‘ پانچ لوگ۔۔ معمولی زخمی ہوئے ہیں اگر مرجاتے تو شاید مالی امداد کا اعلان کردیا جاتا۔‘

پڑوسی ملک کے بارے میں خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہاں انتہاپسندی اپنی آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔ لیکن، یہاں تو کوئی ’سینا‘ نہیں۔۔کوئی ’انتہاپسند‘ نہیں۔۔سب امن پسند لوگ ہیں ۔۔ہمارے باپ دادا بھی یہیں پیدا ہوئے اور ہم بھی ۔۔پھر یہ فرق کیوں؟ ۔۔ ہم ایک جوڑے میں تین سال گزار دینے والے لوگ ہیں ۔۔11تاریخ کو دیوالی ہے ۔۔ دیئے جلانے کے پیسے نہیں تھے ۔۔۔کسی نے روشنی کے لئے ہمارے گھر ہی جلادیئے۔۔۔کیوں؟ کیا ہم انسان نہیں؟ ۔۔۔آپ تو میڈیا والے ہیں، سوال کرسکتے ہیں پھر ’اکثریتی مت والوں‘ سے یہ سوال ضرور کیجئے گا۔۔شاید آپ ہی کو اس کا کوئی جواب مل جائے۔‘

XS
SM
MD
LG