رسائی کے لنکس

افغانستان: نابینا شخص ضلعی پولیس سربراہ نامزد


شاہ محمد شاہ

شاہ محمد شاہ

ڈیڑھ سال قبل مہرآباد کے علاقے میں ان کے اپنے ایک ماتحت اہلکار نے انھیں دھوکہ دیا اور اس حملے میں شاہ محمد نابینا ہوگئے جب کہ ان کے چار ساتھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

افغانستان میں اپنے ساتھی اہلکار کے حملے میں بینائی سے محروم ہونے والے پولیس افسر کو جنوب مغربی صوبہ اورزگان کے ایک ضلع کا پولیس سربراہ نامزد کیا گیا ہے۔

شاہ محمد شاہ 13 سال قبل افغان نیشنل پولیس میں شامل ہوئے اور ضلع ترین کوٹ میں طالبان کے خلاف مختلف کارروائیاں کرتے رہے۔ شدت پسند یہاں تواتر سے پولیس کی چیک پوائنٹس پر حملے کرتے رہے ہیں تاہم وہ ان میں محفوظ رہے۔

لیکن ڈیڑھ سال قبل مہرآباد کے علاقے میں ان کے اپنے ایک ماتحت اہلکار نے انھیں دھوکہ دیا۔

اورزگان صوبے کے ترجمان دوست محمد نایاب کے مطابق یہ شخص شاہ محمد کو دشمن کی طرف سے بچھائی گئی بارودی سرنگ دکھانے کے لیے دھوکے سے لے گیا اور وہاں جا کر انھیں کہا کہ "اب وقت آ گیا ہے کہ تم اس کا خمیازہ بھگتو جو تم نے کیا ہے۔"

اس پولیس اہلکار نے وہاں دھماکا کر دیا جس سے شاہ محمد کے چار ساتھی مارے گئے جب کہ شاہ محمد کی دونوں آنکھیں زخمی ہوئیں اور ان کی بینائی چلی گئی۔

وہ علاج کے لیے بھارت بھی گئے لیکن ڈاکٹر ان کی بینائی بحال نہ کر سکے جس کے بعد شاہ محمد نے پولیس فورس چھوڑنے پر غور کرنا شروع کیا۔ تاہم صوبے کی فوجی کونسل نے ان کے لیے ایک اور منصوبہ بنا رکھا تھا۔

صوبائی ترجمان کے مطابق کونسل نے شاہ محمد کو ان کے آبائی ضلع دہراود کی پولیس کا سربراہ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔ طالبان نے یہاں حالیہ مہینوں میں خاصا اثرورسوخ قائم کیا ہے۔

شاہ محمد کا کہنا ہے کہ بینائی گنوانے کے باوجود وہ اپنے ملک کے لیے لڑتے رہیں گے۔

XS
SM
MD
LG