رسائی کے لنکس

'وائس آف امریکہ' کی مندرین نیوز سروس کو انٹرویو دیتے ہوئے چینی حکومت کے کڑے ناقد کی حیثیت سے مشہور چن محتاط دکھائی دیے اور سوالات کے نپے تلے جواب دیے

نابیناچینی وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن چن گوانگ چینگ نے کہا ہے کہ چینی حکومت جس طرح ان کے معاملے کو دیکھ رہی ہے اس پر انہیں مسرت ہے۔

چن نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب وہ خود بیجنگ کے ایک اسپتال میں سخت حکومتی پہرے میں زیرِ علاج ہیں جب کہ ان کے اہلِ خانہ کی گرفتاریوں کی اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں۔

'وائس آف امریکہ' کی مندرین نیوز سروس کو انٹرویو دیتے ہوئے چینی حکومت کے کڑے ناقد کی حیثیت سے مشہور چن محتاط دکھائی دیے اور سوالات کے نپے تلے جواب دیے۔

اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے بارے میں چن کا کہنا تھا کہ انہیں خوشی ہے کہ چینی حکومت ان کے معاملے پر تحمل اور ٹھنڈے دماغ سے غور کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ چین کی مرکزی حکومت ملک میں سماجی ناہمواریوں کے خاتمے اور اصلاحات کے نفاذ کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری رکھنے کے قابل ہے۔

چن گوانگ چینگ دو ہفتے قبل صوبہ شینڈونگ میں واقع اپنی رہائش سے فرار ہوگئے تھے جہاں وہ گزشتہ ڈیڑھ برس سے نظر بند تھے۔ اپنی رہائش گاہ سے فرار کے بعد وہ چھ دن تک بیجنگ کے امریکی سفارت خانے میں مقیم رہے تھے جس کے باعث ان کے معاملے نے عالمی توجہ حاصل کرلی تھی۔

اپنے طور پر وکالت کی تعلیم حاصل کرنے والے 40 سالہ چن کو اس وقت شہرت ملی تھی جب انہوں نے چین میں محکمہء خاندانی منصوبہ بندی کے اہلکاروں کی جانب سے خواتین کے زبردستی اسقاطِ حمل اور ان کی نس بندی کے خلاف آواز بلند کی تھی۔

ان کے اس احتجاج پر حکام نے انہیں چار برس کے لیے جیل بھیج دیا تھا جہاں سے ستمبر 2010ء میں رہائی کے بعد سے وہ اپنی رہائش گاہ پر نظربند تھے۔

گوانگ چینگ گزشتہ ہفتے اپنی مرضی سے امریکی سفارت خانے سے چلے گئے تھےجس کے بعد سے وہ دارالحکومت کے ایک اسپتال میں داخل ہیں جہاں گھر سے فرار ہوتے وقت انہیں لگنے والے زخموں کا علاج کیا جارہا ہے۔

چن نے 'وی او اے' کو بتایا کہ نظر بندی کے دوران سیکیورٹی اہلکار ان پر تشدد کرتے تھے اور انہوں نے گھر کو عملاً ایک قید خانے میں تبدیل کر رکھا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے گھر میں خفیہ کیمرے نصب تھے، کھڑکیوں کو بند کردیا گیا تھا جب کہ سادہ لباس پولیس اہلکار ہر وقت ان کے گھر کی طرف آنے والی سڑک پر گشت کرتے رہتے تھے۔

بعض اطلاعات کے مطابق چن کے فرار کے بعد ان کے بھائی اور سالی کو حکام نے حراست میں لے رکھا ہے جب کہ ان کے اس بھتیجے کے خلاف اقدامِ قتل کا مقدمہ چلایا جارہا ہے جس نے چن کی تلاش کے لیے گھر میں گھسنے والے ایک سیکیورٹی اہلکار سے ہاتھا ہائی کی تھی۔

XS
SM
MD
LG