رسائی کے لنکس

گر آپ پاکستان میں اچھی مالی حیثیت رکھتے ہیں تو اپنے اخراجات پر امریکہ میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں بصورت ِدیگر کسی سکالر شپ کے لیے اپلائی کریں جس کے لیے نہ کسی جھوٹی بینک سٹیٹمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی کسی کنسلٹنٹ کی۔

پاکستان میں لوگوں کی اکثریت بالخصوص نوجوان نسل امریکہ آنے کی خواہشمند رہتی ہے اور اکثر نوجوان اپنی اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے لاکھوں روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی امریکی ویزہ حاصل کرے میں ناکام رہتے ہیں۔

ہمارے زیادہ تر نوجوان یہ چاہتے ہیں کہ انھیں ٹوفل کا امتحان نہ دینا پڑے اور انہیں امریکی تعلیمی اداروں میں داخلہ مل جائے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ کوئی امریکہ کالج اور یونیورسٹی ٹوفل کے بغیر داخلہ نہیں دیتی تاہم ٹوفل امتحان میں سکور کا لیول مختلف تعلیمی اداروں کے لیے مختلف ہے۔

اگر آپ کو انگریزی زبان پر اتنا عبور نہیں کہ آپ ٹوفل کا امتحان دے سکیں تو آپ کو امریکی اساتذہ یا پروفیسرز کے لیکچرز کی سمجھ بلکل بھی نہیں آئے گی اور اگر آپ سچ میں تعلیم کے حصول کے لیے امریکہ آنے کے خواہشمند ہیں تو ٹوفل کے امتحان کی تیاری کریں اور اس عمل سے گزر کر امریکہ آئیں تاکہ آپ کو کلاس میں یہ سمجھنے میں آسانی ہو کہ ٹیچرز کیا پڑھا رہے ہیں؟

اگر آپ صرف سٹڈی ویزہ حاصل کرکے امریکہ آنا چاہتے ہیں اور دراصل آپ امریکہ میں پیسے کمانا چاہتے ہیں تو پہلے آپ کو یہ سمجنا ہو گا کہ امریکہ تعلیم کے حصول کے لیے دو طرح کے ویزے جاری کرتا ہے۔

جب آپ سکالر شپ یا کسی کی سپانسرشپ پر امریکہ آئیں گے تو آپ کو جے ون (J-1) ویزہ ملے گا اور اگر آپ اپنے خرچے پر آئیں گے تو آپ کو ایف ون (F-1) ویزہ ملے گا۔
جے ون ویزہ پر آپ نوکری نہیں کر سکتے اور نہ کوئی آپ کو نوکری دے سکتا ہے۔ جبکہ ایف ون ویزہ پر آپ ہفتے میں تقریبا اکیس گھنٹے کام کر سکتے ہیں۔ عام طور پر فی گھنٹہ ساڑے سات سے دس ڈالر فی گھنٹہ معاوضہ دیا جاتا ہے۔

اب یہ جان لیں کہ اگر آپ امریکہ میں سٹڈی ویزے کی غرض سے آئے ہیں تو آپ کو پڑھنا پڑے گا۔ امریکہ میں کلاس میں نوے فیصد حاضری لازمی ہوتی ہے اور تعلیمی ادارے صرف فیس لے کر آپ کو کلین چٹ نہیں دیتے۔

ہمارے اکثر دوست بتاتے ہیں کہ وہ برطانیہ کے بعض اداروں میں سمسٹر کی فیس جمع کروا کے دن رات پیسے کمانے میں لگے رہتے ہیں لیکن امریکہ میں صورتحال کافی مختلف ہے۔


امریکہ کے سٹڈی ویزہ کے لیے آپ کو ہوسٹ انسٹی ٹیوشن کی طرف سے ایک خصوصی دستاویز ( I-20 یا DS-2019) درکار ہوتی ہے جس پر دراصل سکیورٹی سافٹ ویر کا مخصوص نمبر درج ہوتا ہے۔ اس سکیورٹی سافٹ ویر پر آپ کی مکمل معلومات درج ہوتی ہیں جب آپ کالج سے مخصوص ٹائم تک غیر حاضر ہو جائیں تو کالج اس سوفٹ ویر میں آپ کا سٹیٹس تبدیل کر دیتا ہے اور آپ غیر قانونی شمار کیے جاتے ہیں اور ہوم لینڈ سکیورٹی آپ کی تلاش شروع کر دیتی ہے باوجود اس کے کہ آپ کا ویزہ کی مدت ختم نہیں ہوئی ہوتی۔

امریکہ میں رہائش، ٹرانسپورٹ، ٹیکس (کسی کو ٹیکس میں چھوٹ نہیں)، خوراک، تعلیم اور میڈیکل کے اخراجات آسان نہیں اس لیے آپ کو بہت محنت سے پیسے کمانا پڑتے ہیں جب کہ آپ مقررہ حد سے زیادہ کام بھی نہیں کر سکتے کیونکہ تمام نظام کمپیوٹر سے منسلک ہونے کی وجہ سے آپ کہیں بھی چھپ نہیں سکتے۔

امریکہ سے پیسے کما کے پاکستان بھیجنے کا صرف ایک فائدہ ہے کہ آپ جب امریکی ڈالرز کو پاکستانی روپے میں تبدیل کرتے ہیں تو وہ کافی پیسے بن جاتے ہیں۔

میں اپنے ذاتی مشاہدے کی روشنی میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ اگر آپ پیسے کمانے کی غرض سے سٹڈی ویزے پر امریکہ آنا چاہتے ہیں تو یہ کوئی معقول فیصلہ نہیں ہو گا۔

اگر آپ پاکستان میں اچھی مالی حثیت رکھتے ہیں تو اپنے اخراجات پر امریکہ میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ دوسری صورت میں امریکہ میں آپ کو سکالرشپ پروگرام بھی بآسانی مل جاتے ہیں اور اس کے لیے نہ کسی جھوٹی بینک سٹیٹمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ کسی کنسلٹنٹ کی۔

سکالرشپس کی مزید معلومات کے لیے آپ فیس بک پر عبدل کا امریکہ کے صفحے پر آسکتے ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG