رسائی کے لنکس

مطلوبہ مقام کے قریب اگر یہ احساس ستانے لگے کہ نہیں دوبارہ سے سفر کا آغاز کرنا چاہیئے تو پھر کیا کیا جا سکتا ہے؟

کوئی شخص جب پر جوش انداز میں اپنے سفر کا آغاز کرے اور اس مقام پر پہنچ جائے جہاں اس کی منزل قریب ہو تو اسے اپنی تھکن کا احساس کم ہونے لگتا ہے۔

لیکن مطلوبہ مقام کے قریب اگر اسے خود ہی یہ احساس ستانے لگے کہ نہیں دوبارہ سے سفر کا آغاز کرنا چاہیئے تو پھر کیا کیا جا سکتا ہے؟

کچھ ایسا ہی ان دنوں پاکستان میں انتخابات سے قبل کا احوال ہے، الیکشن کمیشن کی تشکیل اور خاص طور پر چیف الیکشن کمشنر کی اتفاق رائے سے تقرری کے بعد عموماً خوشی منائی گئی، مگر اب جب کہ انتخابات کا وقت سر پر ہے تو اُسی کمیشن کی تشکیل پر اعتراضات کی صدائیں گونجنا شروع ہو گئی ہیں۔

ہاں اور ہاں کے بعد نا۔۔۔۔۔ یہ سب کچھ ماسوائے مبہم اور بے یقینی کے سوا کچھ نہیں۔

وہ قوم جو اقوام عالم میں اعلٰی مرتبہ اور مقام چاہتی ہو اگر اس کے بعض رہنماؤں کو منزل کے قریب پہنچ کر یہ احساس ستانے لگے کہ نہیں کچھ بدلنے کے لیے ’زیرو پوائنٹ‘ سے سفر کا آغاز کرنے کی ضرورت ہے تو کیا اس قوم کو کبھی منزل ملے سکے گی؟

یہ سوال مجھے بھی ستا رہا ہے، نا جانے ایسا کیوں ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG