رسائی کے لنکس

سچ تو یہ ہے کہ ملک سے آتی دل ہلادینے والی خبروں پر اب دل نہیں ہلتا کہ ’’امیون‘‘ ہو گئے ہیں

انٹرنیشنل نیوز ڈیسک پر بیٹھنا بڑا تکلیف دہ ہے۔ ایک طرف مانیٹرز پر اپنے ملک سے ایک سے ایک بری خبر مل رہی ہوتی ہے اور دوسری طرف بین الاقوامی دنیا سے وائرزپر کچھ ایسی خبریں ملتی ہیں جوبظاہراعلی قدروں کی غماز ہوتی ہیں مگر ہمارے لیے تو اصل میں وہی جی کے جلانے کا سامان ثابت ہوتی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ملک سے آتی دل ہلادینے والی خبروں پر اب دل نہیں ہلتا کہ ’’امیون‘‘ ہو گئے ہیں، البتہ اب تکلیف دنیا سے ملنے والی ’’اچھی اچھی ‘‘ خبروں پر زیادہ ہوتی ہے جو لگتا ہے ہمارا منہ چڑانے کے لیے گھڑی گئی ہیں۔ ٹیبل سٹوریز..

تین خبریں دیکھیے۔

اسرائیلی وزیراعظم خود اپنی حکومت کے خاتمے اور مقررہ وقت سے 18 ماہ قبل انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کے بقول وہ ملکی سلامتی، ملکی معیشت اور معاشرے کو اپنی غیر مستحکم حکومت پر قربان نہیں کرنا چاہتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مانا کہ بنجمن نیتن یاہو ’’کچی گولیاں‘‘ نہیں کھیل رہے، رائے عامہ کے جائزے ظاہر کر رہے ہیں کہ ان کی مقبولیت کا گراف بلند ہے اور اگر آج انتخابات ہوتے ہیں تو ان کی لیکود پارٹی اتنی سیٹیں ضرور جیت جائے گی جس سے وہ بآسانی حکومت قائم کر سکتے ہیں۔ اس طرح انہیں اپنے اتحادیوں کے ناز نخرے نہیں اٹھانا پڑیں گے۔ لیکن یہ بھی تو حوصلے کی بات ہے ناں کہ وہ اپنی مدت کو ایک نہ دو، پورے 18 مہینے قبل سمیٹنے پر از خود راضی ہیں۔ حالانکہ اس کا مطالبہ نہ اپوزیشن نے کیا اورنہ ملک کی عدلیہ نے انہیں ’’مجرم‘‘ قرار دیا ہے نہ عوام سڑکوں پر ہیں۔ پھر بھی حکومت سے دستبردار ہوکر ’’بزدلی‘‘ کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ حالانکہ اردگرد کے ممالک پر نظر ڈالیں تو انہیں ڈٹ جانا چاہیے۔ انہیں بہادر وزیراعظم کا خطاب بھی ملے گا۔ ہو سکتا ہے پارلیمنٹ ان کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ان پر اعتماد کی قرارداد بھی منظور کر دے۔ ان کو فی لوقت اگر اتحادیوں سے کوئی چیلنچ ہے تو ایک بل پر۔ حالانکہ وہ بعض ایسے قائدین سے مشورہ لے سکتے ہیں جن کے ساتھ ان کے سفارتی تعلقات بھی بھلے نہ ہوں، مگر انہیں وہ نسخہ کیمیا مل سکتا ہے کہ اتحادیوں کو ساتھ لے کر کس طرح چلا جاتا ہے۔ آسان سی بات ہے جو مانگتے ہیں دے دو، کون سا کچھ جیب سے جانا ہے، سرکار کے خرچے پرکچھ بھی کیا جا سکتا ہے اور عوام اس دلیل کو قبول بھی کر لیتے ہیں کہ کوالیشن گورنمنٹ کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ عوام یہ بھی نہیں پوچھتے کہ مجبور ہیں تو حکومت چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔

ا ب ایک اور خبر سنیے

فرانس کے موجودہ صدرنکولس سارکوزی کو جیسے ہی غیرسرکاری غیرحتمی، اندازوں پرمبنی رپورٹ ملی ہے کہ وہ اپنے حریف فرانسو اولان کے خلاف معمولی سے فرق سے ہار رہے ہیں، انہوں نے فون کر کے اپنے مخالف کو مبارکباد دی ہے، اپنی شکست تسلیم کر لی ہے اور اعتراف کیا ہے کہ عوام ان کے خلاف غصے میں حق بجانب ہیں۔۔۔ لوجی، یہ بھی کوئی بات ہوئی؟ بھلا اتنی آسانی سے بھی حکومت پلیٹ میں رکھ کر دی جاتی ہے؟ کوئی اتنی آسانی سے شکست مانتا ہے۔ مسٹر سارکوزی نے بھی اپنے جنوبی ایشیائی دوستوں سے کچھ نہیں سیکھا۔ نہ ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ کو الزام دیا نہ کہا کہ اپوزیشن کے گمراہ کن پروپیگنڈے میں وہ دھاندلی کا شکار ہوئے ہیں۔ اور رزلٹ تو کسی اور کی مرضی سے تیار ہوئے ہیں۔ الیکشن کمشن کوگناہ گار قراردیا نہ انتخابی عملے کو متعصب ٹھہرایا۔ سیدھا سیدھا اعتراف کر لیا کہ ان سے غلطیاں ہوئیں۔ اب اگر سارکوزی کے بال بچے ہوتے جنہوں نے آئندہ سیاست میں حصہ لینا ہوتا تو وہ بھلا ’’معافی‘‘ وغیرہ کا یا غلطیوں کے اعتراف کا کلچر ڈالتے۔ ایسے ہی آنے والوں کے لیے بھی مشکل پیدا کرکے جا رہے ہیں۔

اسی دن یونان سے خبر مل رہی ہے کہ ووٹروں نے ملک کی دو سب سے بڑی جماعتوں کو انتخاب میں مسترد کر دیا ہے اوراس بات پر ناراضی کا اظہار کیا ہے کہ یہ جماعتیں یورپی یونین کے کہنے پر جس معاشی حکمت عملی پر کاربند رہیں، عوام پر وہ خاصی بھاری ٹھہری ہے ، ویسے یہ پالیسی کفایت شعاری کی تھی۔ یونانی حکمران بھی ’’اللہ لوک‘‘ ہیں۔ انہیں اس بات پر ڈٹ جانا چاہیے کہ تیسری قوت کو کوئی اور قوت تخلیق کرتی ہے، اس لیے وہ مستند نہیں ۔ ہمھیں تو بتایا جاتا ہے کہ تیسری قوت کو کوئی چوتھی، جو درحقیقت پہلی قوت ہوتی ہے وہی تخلیق کرتی ہے۔ اور حکمران ایسی قوتوں کو ’’بچہ پارٹی‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ انتخابی سیاست پر یقین رکھنے والے بہت سے سیاسی پنڈتوں کی نظر میں بھی کوئی تیسرا نہیں جچتا۔ فرانس میں تیسری قوت کے پیدا ہونے کا پتا چلا نہ انتخاب جیتنے کا شور پڑا اور تو اور ایسے پنڈتس بھی یہاں نہ مل سکے جو تیسری قوت کے دعوے دار ہونے والوں کو ان کی اوقات یاد دلاتے رہتے۔ یونانی حکمرانوں کو کفایت شعاری کی سزا مل گئی، اب انہیں ’’شاہ خرچیاں‘‘ سیکھنے اربوں ڈالرکے مقروض ’’تیسری دنیا‘‘ کے کسی ملک کا سفر کرنا چاہیے۔ سات آٹھ گھنٹے کی فلائٹ ہی تو لینا پڑے گی۔ چارٹر طیارہ سفر آسان کر دے گا ۔ کمپنی اور کمپنی کی مشہوری کے لیے احباب کی فوج ظفر موج کا ساتھ جانا تو ضروری ہے ہی، 21 صحافیوں کو ساتھ لے جانا تو قطعا نہیں بھولنا چاہیے۔

XS
SM
MD
LG