رسائی کے لنکس

بوژیلائی: چین کا معتوب سیاست دان


بوژیلائی کی فائل فوٹو

بوژیلائی کی فائل فوٹو

رواں سال کے آغاز پر سامنے آنے والے ایک سیاسی اسکینڈل نے چین کے اس اہم سیاست دان کا کیریئر بظاہر تاریک کردیا ہے۔

ابھی سال بھر پہلے تک یہ یقینی نظر آرہا تھا کہ بوژیلائی 2012ء کے اختتام تک چین کی حکمران جماعت 'کمیونسٹ پارٹی آف چائنا' کی اس طاقت ور 'پولٹ بیورو اسٹینڈنگ کمیٹی' کی رکنیت سنبھال لیں گے جو رواں برس نومبر میں چین کی نئی قیادت کا انتخاب کرے گی۔

لیکن رواں سال کے آغاز پر سامنے آنے والے ایک سیاسی اسکینڈل نے بظاہر چین کے اس اہم سیاست دان کا کیریئر تاریک کردیا ہے۔

بوژیلائی کی اہلیہ، گو کیلائی پر ایک برطانوی تاجر کے قتل کا الزام عائد ہونے اور بوژیلائی کی جانب سے اپنی بیوی کو قانونی کاروائی سے بچانے کی اطلاعات سامنے آنے پر انہیں کمیونسٹ پارٹی کے عہدے سے برطرف کردیا گیا۔

بعد ازاں عدالتی کاروائی کےد وران میں گو کیلائی پر اس قتل کا الزام ثابت ہوا اور وہ اس جرم میں ان دنوں عمر قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔

بو نے 1980ء میں 'کمیونسٹ پارٹی' میں شمولیت اختیار کی تھی اور پھر ان کا یہ سیاسی سفر آگے ہی آگے بڑھتا رہا۔ وہ 'ڈیلان' شہر کے میئر بنے اور پھر صوبہ 'لیاننگ' کے گورنر اور وزیرِ تجارت بھی رہے۔ سنہ 2007ء میں انہیں جنوب مغربی شہر چونگکنگ کا میئر مقرر کرنے کےساتھ ساتھ 25 رکنی 'پولٹ بیورو' کا رکن بھی نامزد کیا گیا۔

بو کو ملکی سطح پر اصل شہرت اس وقت ملی جب انہوں نے چونگکنگ کے پولیس سربراہ وانگ لیجن کے ساتھ مل کر شہر میں بدعنوانی کے خلاف بڑا آپریشن شروع کیا۔ اس آپریشن کے دوران میں کئی سرکاری عہدیداران کو گرفتار کرکے ان پر مقدمات چلائے گئے۔

اس کاروائی اور اپنے دیگر اقدامات کی بدولت بو ایک کرشماتی رہنما کے طور پر سامنے آئے اور انہوں نے چینی انقلاب کے بانی مائوزے تنگ کی روایات اور نعروں کا سہارا لے کر معاشرے میں پھر سے سوشلسٹ روح کو بیدار کرنے کی کوشش کی۔

لیکن ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ سب دکھاوا تھا اور ان کے جانے کے بعد یہ واضح ہوا کہ چونگکنگ میں بظاہر نظر آنے والی بہتری کے پسِ پشت کئی مسائل اور خامیاں موجود تھیں۔

بو گزشتہ کئی ماہ سے منظرِ عام سے غائب ہیں۔ غالب گمان یہ ہے کہ وہ حکام کی حراست میں ہیں اور ان سے ان کی مبینہ بد عنوانیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کی تفتیش کی جارہی ہے۔
XS
SM
MD
LG