رسائی کے لنکس

تجارتی بنیادوں پر خلائی سفر سب سے پہلے بوئنگ کمپنی کے حصے


ناسا کا ایک خلا باز اور بوئنگ کا ایک پائلٹ تجرباتی طور پر جولائی 2017ء میں 'کریو اسپیس ٹرانسپورٹیشن۔100' (سی ایس ٹی۔100) کے ذریعے یہ سفر کریں گے۔

طیارہ ساز کمپنی بوئنگ پہلی ایسی تجارتی کمپنی ہو گی جو امریکہ کے خلائی تحقیق کے ادارے ’ناسا‘ کے خلانوردوں کو لے کر خلا میں جائے گی۔

امریکی خلائی تحقیق کے ادارے ناسا کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت بوئنگ اور ایک دوسری کمپنی 'اسپیس ایکس' خلا بازوں کو خلائی سفر کی سہولت فراہم کریں گی۔

2011ء میں خلائی جہازوں کے مشن کے اختتام کے بعد ناسا نے مدار میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک رسائی کے لیے ان دو کمپنیوں سے اربوں ڈالر کے معاہدے کیے۔

گزشتہ سال ستمبر میں عہدیداروں نے بتایا تھا کہ ناسا نے بوئنگ کے لیے چار ارب بیس کروڑ ڈالر جب کہ اسپیس ایکس کے لیے دو ارب ساٹھ کروڑ ڈالر کا اعلان کیا تھا۔

تاہم خلائی شٹل کی طرز پر "ڈریم چیزر" نامی ایک جہاز تیار کرنے والی کمپنی سیئرا نیواڈا کی طرف سے بعض قانونی معاملات کے باعث دو کمپنیوں سے ہونے والے معاہدے کی مزید تفصیلات منظر عام پر نہیں آ سکی ہیں۔

ہیوسٹن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ناسا کی عہدیدار کیتھی لوئڈرز نے بتایا کہ ناسا کے خلانوردوں کو لے جانے کے دو مشن سب سے پہلے بوئنگ کمپنی سر انجام دے گی کیونکہ اس نے اب تک اس ضمن میں دو اہداف حاصل کر لیے ہیں جب کہ اسپیس ایکس تا حال ایک ہی سنگ میل عبور کر سکی ہے۔

بوئنگ کمپنی کے نائب صدر اور کمپنی کے خلائی امور کے جنرل منیجر جان ایلبن کا کہنا ہے کہ ناسا کا ایک خلا باز اور بوئنگ کا ایک پائلٹ تجرباتی طور پر جولائی 2017ء میں 'کریو اسپیس ٹرانسپورٹیشن۔100' (سی ایس ٹی۔100) کے ذریعے یہ سفر کریں گے۔

ان کے بقول اس تجرباتی مشن کے بعد دسمبر 2017ء میں پہلا باضابطہ تجارتی مشن خلا میں جائے گا۔

فائل فوتو

فائل فوتو

اسپیس ایکس ڈریگن کریو نامی جہاز کو بہتر بنا کر 2016ء میں بغیر کسی سوار کے خلا میں بھیجے گا جب کہ اس کا منصوبہ ہے کہ یہ 2017ء میں اس جہاز پر کسی انسان کو سوار کر کے خلا میں جائے گا۔ تاہم اس کی حتمی تاریخ میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

کیلیفورنیا میں قائم اسپیس ایکس 2012ء میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر آلات اور دیگر سازو سامان پہنچا کر تجارتی بنیادوں پر خلا میں سفر کرنے والی پہلی کمپنی بن گئی تھی۔

امریکہ کا خلائی شٹل کا 30 سالہ پروگرام 2011ء میں ختم ہو گیا تھا جس کے بعد اسے خلائی مشن کے لیے روسی خلائی کیپسول سویئز پر انحصار کرنا پڑا جس میں ایک خلا باز کے سفر کے لیے اسے سات کروڑ ڈالر ادا کرنا ہوتے تھے۔

امریکہ کی اس نئی تجارتی خلائی صنعت کے معرض وجود میں آنے کے بعد سفر کے اخراجات قدرے کم ہو جائیں گے اور اولاً ایک خلا باز کے سفر کی قیمت پانچ کروڑ 80 لاکھ ڈالر ہو گی۔

ناسا کے انتظامی عہدیدار چارلس بولڈن کہتے ہیں کہ نجی طور پر زمین کے مدار میں کامیابی سے سفر کا مطلب یہ ہے کہ امریکی خلائی ادارہ 2024ء تک مریخ پر انسانوں کو بھیجنے کے اپنے مشن پر توجہ دے سکے گا۔

XS
SM
MD
LG