رسائی کے لنکس

نائیجیریا: بوکو حرام نے 190 مغویوں کو رہا کر دیا


فائل فوٹو

فائل فوٹو

حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ اور ہفتہ کو رہا کیے گئے افراد میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں اور انہیں جنوری کو کاتارکو گاؤں پر ایک حملے میں یرغمال بنایا گیا تھا۔

نائیجیریا میں حکام کا کہنا ہے کہ شدت پسند گروپ بوکوحرام نے ان 190 افراد کو رہا کر دیا ہے جنہیں شمال مشرقی ریاست یوب سے جنوری کے اوائل میں اغواء کیا گیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ اور ہفتہ کو رہا کیے گئے افراد میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں اور انہیں جنوری کو کاتارکو گاؤں پر ایک حملے میں یرغمال بنایا گیا تھا۔ اس حملے کے دوران بوکوحرام کے مسلح افراد نے گاؤں کے زیادہ تر حصے کو نذر آتش کر دیا تھا۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ کچھ افراد اب بھی شدت پسندوں کے قبضے میں ہیں۔

بوکو حرام نے ماضی میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو اغواء کیا۔ گزشتہ سال اس گروہ نے چیبوک کے قصبے سے اسکول کی تقریباً 300 طالبات کو اغواء کر لیا تھا۔

دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ جان کیری اتوار کو نائیجیریا میں ملک کے دو سرکردہ صدارتی اُمیدواروں موجودہ صدر گڈ لک جوناتھن اور حزب اختلاف کے بڑے اُمیدوار محمد بوہاری سے ملاقات کریں گے۔

امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ کیری نائیجیریا کے سب سے بڑے شہر لاگوس بھی جائیں گے جہاں وہ 14 فروری کو ہونے والے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کو پُرامن اور قابل اعتبار بنانے کی اہمیت پر زور دیں گے۔

ماضی میں نائیجیریا میں ہونے والے انتخابات تشدد کا شکار رہے۔ 2011ء کے انتخابات میں جوناتھن کی متنازع جیت کی وجہ سے ملک کے شمال میں تشدد شروع ہو گیا جس میں ایک اندازے کے مطابق 800 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس سال کے انتخابات بوکوحرام کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کی وجہ سے پیچیدہ ہوں گے جس نے شمال مشرق میں ہزاروں افراد کو ہلاک کر دیا ہے اور بورنو ریاست کے ایک بڑے حصے پر اس کا کنڑول ہے۔

XS
SM
MD
LG