رسائی کے لنکس

مغوی لڑکیوں کی شادیاں کردی ہیں، بوکو حرام کا دعویٰ


بوکو حرام کے سربراہ ابو بکر شیخو کے ویڈیو پیغام کی ایک تصویر

بوکو حرام کے سربراہ ابو بکر شیخو کے ویڈیو پیغام کی ایک تصویر

ویڈیو پیغام میں ابو بکر شیخو نے کہا ہے کہ مغوی طالبات کا معاملہ ماضی کی بات ہوچکا ہے اور اب اس پر شور شرابا غیر ضروری ہے۔

نائجیریا میں سرگرم شدت پسند تنظیم 'بوکو حرام' کے سربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی تنظیم نے چھ ماہ قبل جن 219 طالبات کو اغوا کیا تھا انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد شادیاں کرلی ہیں۔

تنظیم کے سربراہ ابو بکر شیخو نے ہفتے کو جاری کیے جانے والے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ تمام طالبات اب اپنے اپنے شوہروں کے ساتھ زندگیاں گزار رہی ہیں اور انہوں نے قرآن کے دو، دو پارے بھی حفظ کرلیے ہیں۔

ان طالبات کو شدت پسندوں نے رواں سال اپریل میں شمالی نائجیریا کے قصبے چیبوک پر حملہ کرکے اسکولوں سے اغوا کرلیا تھا۔

اغوا ہونے والی ڈھائی سو سے زائد طالبات میں سے کئی درجن بعد میں مختلف اوقات کے دوران شدت پسندوں کی تحویل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی تھیں تاہم 219 طالبات چھ ماہ گزرنے کے باوجود بھی 'بوکو حرام' کی تحویل میں ہیں۔

نائجیریا کی حکومت نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ مغوی طالبات کی رہائی کے لیے 'بوکو حرام' کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے۔

لیکن شدت پسند تنظیم کے سربراہ نے اپنی ویڈیو میں حکومت کے ساتھ مذاکرات کے دعووں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس شخص کو نہیں جانتے جو حکومت سے بوکوحرام کا نمائندہ بن کر بات چیت کر رہا ہے۔

ویڈیو پیغام میں ابو بکر شیخو نے کہا ہے کہ مغوی طالبات کا معاملہ ماضی کی بات ہوچکا ہے اور اب اس پر شور شرابا غیر ضروری ہے۔

یاد رہے کہ ان طالبات کے اغوا کے فوراً بعد بھی اس طرح کی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ شدت پسند جنگجووں نے ان سے شادیاں کرلی ہیں۔

مغوی طالبات کی رہائی کے لیے نائجیریا کی حکومت پر اندرون اور بیرونِ ملک سے بہت دباؤ ہے لیکن چھ ماہ گزر نے اور تحقیقات میں بین الاقوامی اداروں کی مدد کے باوجود نائجیرین حکومت ان طالبات کا سراغ لگانے میں ناکام رہی ہے۔

رواں ہفتے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم 'ہیومن رائٹس واچ' نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ان طالبات کے علاوہ بھی بوکو حرام کے قبضے میں 500 سے زائد خواتین اور لڑکیاں موجود ہیں۔

تنظیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بوکو حرام کے کیمپوں میں مغوی خواتین کی جنگجووں سے شادیوں کے واقعات عام ہیں اور نائجیریا کی حکومت ملک کی عورتوں کو شدت پسندوں سے بچانے اور ان کے اغوا کی وارداتوں کی تحقیقات کرکے ذمہ داران کے خلاف کارروائی میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG