رسائی کے لنکس

بلوچستان: کان میں گیس بھرنے سے آٹھ مزدور ہلاک

  • ستار کاکڑ

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

بلوچستان کے ضلع لورالائی میں دکی کی ایک پر ائیویٹ کمپنی کی کوئلے کی کان میں بارہ کان کن سینکڑوں فٹ زیر زمین کام میں مصروف تھے کہ ایک شعلہ بھڑکنے سے کان کے اندر دھماکا ہوا اور آگ لگ گئی۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں کوئلے کی کان میں زہری گیس بھرنے سے آٹھ کان کن ہلاک ہو گئے۔


بلوچستان میں مائنز کے انسپکٹر افتخار احمد نے بتایا کہ یہ حادثہ ضلع لورالائی کی تحصیل دُکی کے علاقے میں کوئلہ کی کان کے گیس بھر جانے کے بعد ہوا۔

افتخار احمد نے وائس آف امر یکہ کو بتایا کہ پیر کو علی الصبح دُکی کی ایک پر ائیویٹ کمپنی کی کان میں بارہ کان کن سینکڑوں فٹ زیر زمین کام میں مصروف تھے کہ ایک شعلہ بھڑکنے سے کان کے اندر دھماکا ہوا اور آگ لگ گئی۔

کان کنوں کی لاشیں نکالنے کے بعد دُکی میں بیشتر کان کنوں نے کان میں تازہ ہوا کا مناسب انتظام نہ ہونے پر احتجاج بھی کیا۔

مزدور رہنما بخت محمد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ علاقے میں بیشتر کوئلہ کی کانوں میں مقررہ سر کاری قواعد کی پاسداری نہیں کی جاتی۔

تاہم صوبائی حکومت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے کانوں میں حفاظتی انتظامات کی جانچ کا عمل شروع کر رکھا ہے اور مزدوروں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

حکومت بلوچستان کے محکمہ مائنز اور منرل کی طرف سے فراہم کر دہ تفصیلات کے مطابق قدرتی وسائل سے مالامال پاکستان کے اس جنوبی مغربی صوبے کے پانچ اضلاع کوئٹہ، لورالائی، سبی، بولان اور ہرنائی میں کوئلے کے کروڑوں ٹن کے ذخائر ہیں۔

ان پانچ اضلاع میں کوئلہ نکالنے کے لیے دو ہزار سے زائد کانیں موجود ہیں جہاں سے چالیس ہزار سے زائد مزدور سالانہ نوے لاکھ ٹن کوئلہ نکالتے ہیں جو پاکستان کے صوبہ پنجاب میں اینٹ بنانے والے بھٹوں اور سیمینٹ کے کارخانوں میں بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

بلوچستان کے مختلف اضلاع میں قائم کیے گئے کوئلہ کی کانوں میں اس سے قبل بھی مہلک حادثات پیش آتے رہے ہیں اور 2011ء میں سنجدی کے علاقے میں قائم ایک کوئلہ کان میں ہونے والے گیس دھماکے میں پچاس مزدور ہلاک ہو گئے تھے۔
XS
SM
MD
LG