رسائی کے لنکس

’چھیاں چھیاں ‘، ’منی ‘اور’ انارکلی‘ ۔۔ایک چہرے کے کئی کامیاب حوالے

  • واشنگٹن

فلم ”چھیاں چھیاں“

فلم ”چھیاں چھیاں“

”چھیاں چھیاں“ صرف عوام میں ہی مقبول نہیں ہوا بلکہ خود ملائیکہ کے لئے بھی یہ بڑی اہمیت رکھتا ہے

ایکٹرکہیئے،ماڈل کہئیے،یا آئٹم گرل نمبر ون ، ملائیکہ اروڑہ خان ہر روپ میں ’فٹ ‘ہیں ۔”چھیاں چھیاں“، ”منی بدنام ہوئی“، ”ماہی وے“،اور ”انارکلی ڈسکو چلی“ جیسے آئٹم سانگ دیکھئے تولگتا ہے صرف ملائیکہ کو ہی ذہن میں رکھ کر بنائے گئے ہیں۔ ’ہرگانا ہٹ اور ہر گانے میں ملائیکہ فٹ۔ ‘

ان گانوں نے ہفتوں تک میوزک چینلز پر کسی اور گانے کو ٹکنے نہیں دیا۔ سچ پوچھئیے تو ان ”گانوں کی مقبولیت “میں ”ملائیکہ کا بڑا ہاتھ“ ہےیا” ملائیکہ کی مقبولیت“ میں ”ان گانوں کا بڑا ہاتھ“ ہے ۔اس بات کا فیصلہ کرنا ذرا مشکل ہے۔اس حقیقت کے باوجود ملائیکہ کو جس گانے نے اصل پہچان دی وہ1998ء میں ریلیز ہونے والی فلم ”دل سے “ کا گانا ”چل چھیاں چھیاں “ تھا۔

چھ منٹ اورچون سکینڈکے دورانیئے پر مشتمل اس گانے کی ڈائریکشن تھی منی رتنم کی، گلزار کے بولوں کوموسیقی سے سجایا تھا اے آر رحمن نے جبکہ سپر ہٹ ڈانس نمبر بنانے کا سہرا رہا، پاپولر کوریو گرافر فرح خان کے سر۔گانے کو پورے فنی رچاوٴ اور سچویشن کے مطابق گایا تھا سکھ وندر سنگھ اور سپنا اوستھی نے۔

اس گیت نے ملائیکہ پرکامیابی کے دروازے’ چوپٹ ‘انداز میں کھول دئیے ۔ویسے بھی وہ ان دروازوں پرکافی دیر سے دستک دے رہی تھیں۔ گو کہ فلم باکس آفس پر ناکام رہی لیکن یہ گانا آج بھی دنیا بھر کے میوزک لورز کامن پسند گانا ہے۔

”چھیاں چھیاں“ صرف عوام میں ہی مقبول نہیں ہوا بلکہ ہ خود ملائیکہ کے لئے بھی یہ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس گانے کی شوٹنگ کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے وہ اب بھی اتنی ہی جذباتی ہو جاتی ہیں جیسے یہ کل کی بات ہو۔وہ کہتی ہیں ”’مجھے اب بھی اس گانے کی شوٹنگ کا ایک ایک لمحہ اور ڈانس کا ہر ،ہر اسٹیپ یاد ہے ۔iہ یادیں مجھے اکثر مسکرانے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ “

ٹرین کی چھت پر گھاگھرا چولی میں ملبوس شاہ رخ خان کے ساتھ اس گانے کو پکچرائز کرتے ہوئے ملائیکہ نے کبھی اس شہرت کا تصور نہیں کیا تھا جو اس گانے کا مقدر بنی۔

ملائیکہ کے لئے چلتی ہوئی ٹرین کی چھت پر چڑھ کر گانا پکچرائز کرانے کا فیصلہ بہت بولڈ تھا کیونکہ عام طور ہیروئنز اس طرح کے مناظر خود کرنے کے بجائے اسٹنٹس کا سہارا لیتی ہیں لیکن ملائیکہ کو اس جرائتمندانہ فیصلے کا پھل بھی بے مثال کامیابی کی صورت میں ملا۔ آج کسی کو بھی فلم ’دل سے‘ کی ہیروئن منیشا کوئرالہ یاد نہیں لیکن ’چھیاں چھیاں ‘گرل ملائیکہ اروڑہ خان سب کو یاد ہیں۔

مشہور صوفی شاعر بابا بلھے شاہ کے کلام’ تھیاتھیا‘ سے متاثر ہو کر بنائے گئے گانے ’چھیاں چھیاں‘ کی پکچرائزیشن میں ساڑھے چار دن کا وقت لگا ۔ اس گانے کی بدولت جس ریلوے ٹریک پر یہ گانا فلم بندہوا وہ بعد میں عوام کے لئے ’ٹورسٹ ریزورٹ ‘کی حیثیت اختیار کر گیا ۔اوٹی کی پہاڑیوں پر ٹرین کا سفر کرنے بے شمار سیاح اب بھی یہاں ضرور آتے ہیں۔

’ٹائمز آف انڈیا‘ سے بات چیت میں گانے کی پکچرائزیشن سے جڑی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے ’چھیاں چھیاں گرل ‘کا کہنا تھا کہ بلاشبہ یہ ایک خطرنا ک تجربہ تھا۔ دشوار گزار ٹریک پر ٹرین سفر کر رہی تھی ۔ تمام تر حفاظتی اقدامات کے باوجود کچھ لوگ ٹرین سے نیچے بھی گرے لیکن شکر ہے کوئی بڑا حادثہ نہیں ہوا۔“

فرح خان سے جب اس گانے کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو وہ ملائیکہ کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتیں۔ ”’ملائیکہ کا ردھم بہت زبردست ہے۔ اور اسی حساب سے اس کے اسٹیپس اور کاسٹیوم کا سلیکشن بھی۔ملائیکہ کے لئے آئٹم نمبرتخلیق کرنا بہت آسان ہے۔‘

دوسری جانب ملائیکہ بھی گانے کی پروڈکشن میں شامل ہر فرد کی تعریفوں کے پل باندھتی نظر آتی ہیں۔”جس انداز میں یہ گانا فلم بند کیا گیا وہ ایک یادگار تجربہ تھا۔ فرح نہایت ٹیلنٹ رکھنے والی کوریوگرافر ہیں۔انہوں نے مجھے ایسے اسٹیپس دئیے جو میرے اوپر فٹ بیٹھے۔ منی رتنم کی شاندار ہدایت کاری اور اے رحمن کا میوزک یہ سب تو تھے ہی اس پر شاہ رخ خان جیسے کو اسٹار کی موجودگی نے سونے پر سہاگہ کا کام کیا۔‘

”چھیاں چھیاں“ کی کامیابی کے بعد ملائیکہ نے بہت سے آئٹم سونگز کئے لیکن جب ان کے فیورٹ آئٹم سانگ کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو وہ ’منی بدنام ہوئی‘ کا نام لیتی ہیں۔لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر ”چھیاں چھیاں “ کامیاب نہ ہوتا تو شاید”منی بدنام ہوئی“ بھی ملائیکہ کو نہ دیا جاتا۔
XS
SM
MD
LG