رسائی کے لنکس

ودیابالن اور ڈ رٹی پکچر‘ کی کامیابی سے بالی ووڈ کا رجحان تبدیل


ودیابالن اور ڈ رٹی پکچر‘ کی کامیابی سے بالی ووڈ کا رجحان تبدیل

ودیابالن اور ڈ رٹی پکچر‘ کی کامیابی سے بالی ووڈ کا رجحان تبدیل

’ممبئی فلم انڈسٹری کو ضرورت ہے ایک ایسے کہانی نویس کی جو ایسی فلمی کہانی لکھ سکے جس میں ہیرو کے کرنے کے لئے کچھ نہ ہو اور کہانی ہیروئن کے گر د گھومتی ہو۔۔۔۔جس کی ہیروئن ’دبنگ ‘ ہو۔۔۔اور دنیا بھر کے سامنے اپنی ’ڈرٹی پکچر‘ پیش کرتے ہوئے بھی نہ گھبرائے۔ اس وقت کے تمام ٹاپ فلم میکرز جن میں یش چوپڑا، کرن جوہر اور دیگر شامل ہیں ،ان سے فوری رابطہ کیا جاسکتا ہے۔۔کہانی پسند آنے پر منہ مانگے دام ملیں گے۔۔۔‘

ہوسکتا ہے آپ کو یہ الفاظ کسی جانے پہچانے اخباری اشتہار کے لگے ہوں ۔ بالکل درست اندازہ لگایا ہے آپ نے۔ زبان و بیان کچھ اسی قسم کا ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ ممبئی فلم انڈسٹری کو ان دنوں کروڑوں کا بزنس کرنے والی فلم ’ڈرٹی پکچر‘ کے فارمولے سے ملتی جلتی کہانیوں کی ضرورت ہے جس میں جوکچھ کرے ،ہیروئن کرے جبکہ کوئی مشہور ہیرو نہ بھی ہو توبھی چلے گا۔

فلم والوں کا کہنا ہے کہ کسی زمانے میں ایسی فلمی کہانیوں کو کوئی پوچھتا بھی نہیں تھا جن کی کہانی ہیروئن کے گرد گھومتی ہو لیکن حالیہ برسوں میں کامیاب ہونے والی فلموں کو دیکھیں تو انہی فلموں سے زیادہ بزنس ہوتا نظر آتا ہے جو ہیروئن بیسڈ ہوں مثلاً ودیا بالن کی فلم ”ڈرٹی پکچر“۔بھارت سے موصولہ اطلاعات کے مطابق اس فلم کا بجٹ 15کروڑ تھا جبکہ اس فلم نے ریلیز کے ابتدائی مہینوں میں ہی 90کروڑ روپے کا بزنس کرلیا ہے۔حالانکہ اس فلم میں کوئی بڑا ہیرو بھی نہیں۔

اگرچہ اس دوران دو فلموں ”باڈی گارڈ“ اور ” سنگم“ نے ہیرو کے نام پر کروڑوں کا بزنس کیا مگر ان کا بجٹ بالترتیب 50اور45کروڑروپے تھا اور ان کے ہیروز نے بھی فلم میکرز سے کروڑوں کا معاوضہ لیا جبکہ بھارتی ہیروئینوں خصوصا ودیابالن کا معاوضہ ان ہیروز کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔

فلمی نقادوں کا کہنا ہے کہ ہیروز کے مقابلے میں ہیروئنز کا معاوضہ کم ہواور فلم میں کوئی بھاری معاوضے والا ہیرو نہ بھی ہو تو بھی اس کا فائدہ ہی ہوتا ہے۔ ایک جانب فلم ساز زیادہ منافع کماتا ہے تو دوسری جانب وہ ہیرو کے بھاری بھرکم معاوضہ سے بھی بچ جاتا ہے۔“

ممبئی میں ان دنوں فلم ”ڈرٹی پکچر “کی زبردست کامیابی کے بعد انڈسٹری کاٹرینڈ بدل رہا ہے اور ودیا بالن، کنگنا راناوت اور پریانکا جیسی ہٹ فلمیں دینے والی ہیروئنز کی ڈیمانڈ اچانک کئی گناہ بڑھ گئی ہے ۔ ایسے میں ہر فلم ساز کی خواہش یہ ہے کہ کسی ہلکی پھلکی کہانی پر فلم بنائی جائے جس کا ہیرو بھلے کوئی مشہور اداکار نہ ہو مگر اس کی ہیروئن ایسی ہو کہ فلم ابتدائی ہفتوں میں ہی کروڑوں کی رقم بٹور لے۔

XS
SM
MD
LG