رسائی کے لنکس

منتروں کے ہیرپھیر میں، جان اور جینیلیا کی فلمی شادی، بن چلی تھی حقیقی شادی


منتروں کے ہیرپھیر میں، جان اور جینیلیا کی فلمی شادی، بن چلی تھی حقیقی شادی

منتروں کے ہیرپھیر میں، جان اور جینیلیا کی فلمی شادی، بن چلی تھی حقیقی شادی

جان ابراہم اور جنیلیا ڈی سوزا کی فلمی شادی ، حقیقی شادی میں بدلتے بدلتے رہ گئی۔ جی ہاں یہ کوئی فرضی نہیں بلکہ حقیقی واقعہ ہے جو پچھلے دنوں وی پل شاہ کی فلم ’فورس‘ کی شوٹنگ کے دوران پیش آیا۔ ہوا یوں کہ فلم کے ایک سین میں جان ابراہم اور جنیلیا ڈی سوزا کی شادی ایک پرانے مندر میں ہونا تھا مگر اس کے لئے اتفاق سے فلمی پنڈت دستیاب نہ ہونے کی صورت میں قریبی علاقے کے مقامی پنڈت کو بلالیا گیا ۔

سادہ مزاج پنڈت کو فلموں اور شوٹنگ کا کچھ اتا پتا نہ تھا۔ لہذا جیسے ہی پروڈیوسر نے با آواز بلند ' ایکشن 'کہا پنڈت جی نے شادی کے اصل منتر پڑھنے شروع کردیئے ۔ ادھر جان ابراہم اور جنیلیا نے اگنی کے پھیرے لینے شروع کردیئے۔ اس دوران میں اگرچہ ایک آدھ مرتبہ سین ری ٹیک ہوا اور پروڈسرز نے ہر مرتبہ ’کٹ ‘ کی آواز بھی لگائی مگر پنڈت جی بھلا کیا جانیں ، وہ لگاتار منتر پڑھتے رہے ۔

ادھر ہیرو ہیروئن بھی اصل صورتحال سے بے خبر اگنی کے پھیرے لگاتے رہے ۔ حتی کہ چھٹے چکر پرفلم یونٹ میں موجود کسی شخص نے معاملے کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے فوری طور پر شور مچا یا کہ پنڈت جی اصل منتر پڑھ رہے ہیں اور اگر ساتواں اور آخری پھیرا بھی مکمل ہوگیا تو جان ابراہم اور جنیلیا اصلی میاں بیوی بن جائیں گے ۔ یہ سننا تھا کہ لوگوں کی ہنسی نکل گئی ۔ خود جان اور جنیلیا بھی قہقہہ لگائے بغیر نہ رہ سکے۔

لطف کی بات یہ ہے کہ پنڈت جی مسلسل ساتویں پھیرے پر اصرار کرتے رہے۔ انہیں پروڈیوسر سے لیکر اسپارٹ بوائے تک سب نے یہ سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ شوٹنگ کیا ہوتی ہے، مگر پنڈت جی تھے کہ سمجھ ہی نہیں پارہے تھے۔ غالباً شوٹنگ کے بارے میں ان کا خیال یہ تھا کہ یہ شادی کی مووی بن رہی ہے ،جو اب تقریباً ہر چھوٹی بڑی شادی میں بنتی ہے۔

XS
SM
MD
LG