رسائی کے لنکس

انڈرورلڈ اور گینگسٹرز بالی ووڈ فلموں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، وکی لیکس


انڈرورلڈ اور گینگسٹرز بالی ووڈ فلموں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، وکی لیکس

انڈرورلڈ اور گینگسٹرز بالی ووڈ فلموں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، وکی لیکس

پچھلے آٹھ دس سالوں سے بالی ووڈ کی ماردھاڑ والی فلموں کا پسندیدہ موضوع" انڈرورلڈ" اور" گینگسٹرز" رہا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ" انڈر ورلڈ" کی اصطلاح سے بھی عام آدمی انہی فلموں کے ذریعے متعارف ہوا ہے۔ ان فلموں میں گینگسٹرز کا کردار نہایت نفرت آمیز ہوتا ہے جو بات بات پر دوسروں کو قتل کردینے اور پیسے کی خاظر ملک دشمنی سے بھی نہیں چوکتا۔ پھر گینگسٹرز اور سیاستدانوں کا چولی دامن کا ساتھ دکھایا جانا بھی عام بات ہوگئی ہے۔ اکثرفلموں میں دکھایا جاتا ہے کہ سیاستدان ہی گینگسٹر کو پروان چڑھاتے اور انہیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

یہ تصویر کا ایک رخ ہے جبکہ دوسرا رخ یہ ہے کہ "بالی ووڈکے بیشتر فلمساز انہی گینگسٹرز اور انڈر ورلڈ ڈانز " سے فلموں میں بڑھ چڑھ کر پیسہ لگانے پر رضامند کرتے ہیں ۔ یعنی انہی کا جوتا اور انہی کا سر!! سرمایہ بھی انہی کا اور بدنامی بھی انہی کی۔

اصل معاملہ یہ ہے کہ دنیا بھر کے سفارتی انکشافات کرنے والی ویب سائٹ "وکی لیکس "نے بالی ووڈ فلموں اور اس کے چمکتے دھمکتے ستاروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ ویب سائٹ نے اب تک جہاں دنیا بھر کی حکومتوں کے رازوں سے پردہ اٹھایا ہے وہیں وکی لیکس نے اپنی تازہ کیبل میں یہ راز بھی افشاں کیا ہے کہ بالی ووڈفلمساز بڑے بڑے گینگسٹرز اور سیاستدانوں سے اپنی فلموں میں سرمایہ لگواتے او ر انہیں منافع کی شکل میں بڑی بڑی رقمیں دیتے ہیں۔ یہ وہی دھن ہے جسے بھارتی اصطلاح میں "کالا دھن "کہا جاتا ہے۔

وکی لیکس کا دعویٰ ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران بالی ووڈ فلم انڈسٹری نے ناصرف ممبئی کے انڈر ورلڈ سے قربت حاصل کی بلکہ انہیں کالے دھن کو سفید دھن میں تبدیل کرنے کا راستہ بھی سجھایا۔ یہی وجہ ہے کہ آج داوٴد ابراہیم سے لیکر ہر چھوٹے سے چھوٹا 'ڈان 'فلموں میں پیسہ لگارہا ہے ۔

اگرچہ ویب سائٹ نے ان فلموں کا نام نہیں دیا جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ ان میں داوٴد ابراہیم نے سرمایہ کاری کی لیکن ویب سائٹ نے دعویٰ کے ساتھ یہ کہا ہے کہ فلموں میں انڈر ورلڈ کی جانب سے پیسہ لگانے کا آغاز حکومت کی جانب سے بالی ووڈ کو صنعت کا درجہ دینے کے بعد شروع ہوا اور اس وسیع سرمایہ کاری کی بدولت بالی ووڈ کو اتنی بڑی فلمیں بنانے کی قوت مل گئی کہ اس نے مغربی انداز کی فلمیں بنانی بھی شروع کردیں۔

گزشتہ سال یکم فروری کو جاری کیے گئے ایک مراسلے میں وکی لیکس کا کہنا تھا کہ اگرچہ بالی ووڈ مغربی انداز کی فلمیں بنا رہا ہے، تاہم اس بات کے امکانات موجود نہیں کہ بالی ووڈ کی فلمیں مغربی شائقین کی توجہ حاصل کرسکیں۔ وکی لیکس کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے بالی ووڈ بہت اچھی طرح واقف ہے اور وہ مغربی مارکیٹ میں داخل ہونے اور جنوبی ایشیا میں اپنا منافع کمانے کی نئی راہیں تلاش کر رہی ہے۔

آڈٹ اور ٹیکس کے حوالے سے پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنے والی کمپنی کے ایم پی جی کے سربراہ جے ہل ٹھاکر نے وکی لیکس کو بتایا" فلموں میں پیسے کی ضرورت پوری کرنے کے لیے گینگسٹرز کے ساتھ تعلقات کوئی نئی بات نہیں۔ اس کا آغاز 2000ء میں ہوا تھا جب سرکاری سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے بالی ووڈ، بینکوں سے یا پرائیویٹ طور پر بھی قرضے لینے کی پوزیشن میں نہیں تھی، ایسے میں اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ان گینگسٹرز کی جانب سے کی جانے والی پیشکش قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا۔ اس سے قبل ایسے افراد کا پیسہ قبول کر لیا جاتا تھا جو بڑے کاروبار کے مالک ہوا کرتے تھے، مثال کے طور پر کمرشل فنانسسنگ کرنے والے افراد اور ایسے سرمایہ کار جن کا تعلق تعمیرات یا تجارتی صنعت سے تھااور جو اپنے سرمائے پر ساٹھ سے سو فیصد تک سود وصول کرتے تھے۔ تاہم اس کے بعد سیاست دانوں اور گینگسٹرز کا دیا ہوا پیسہ بھی قبول کیا جانے لگا۔ یہ لوگ اپنے کالے دھن کو سفید کرنے کی غرض سے پیسہ فلموں میں لگاتے تھے۔

ٹائمز میگزین نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ انڈر ولڈ ڈان ابو سلیم نے بھارتی رپورٹرز کو بلایا اور بتایا کہ اس نے شاہ رخ خان کی فلم "دیوداس" کے لیے پیسہ فراہم کیا تھا۔ اس فلم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بھارت کی مہنگی ترین فلم تھی۔

بعض فنکاروں کو انڈرورلڈ ڈان کے ساتھ تعلقات نہ رکھنے کی بڑی قیمت بھی ادا کرنی پڑی ہے۔ اداکار رہیتک روشن، گووندا، امریش پوری اور ہدایتکار کرن جوہر کو انڈر ورلڈ کی جانب سے قتل کی دھمکیاں ملنے کے بعد پولیس گارڈ رکھنے پڑ گئے تھے۔ سپر اسٹار عامر خان اور ڈائریکٹر اشوتوش گورریکر کو بھی دھمکی آمیز کالز موصول ہوئیں کیونکہ انھوں نے اپنی آسکر ایوارڈ میں نامزد ہونے والی فلم کی بھرپور کامیابی کے بعد گینگسٹرز کی جانب سے کی گئی کئی پیشکشوں کو ٹھکرا دیا تھا۔

شاہ رخ خان نے بھی سٹی پولیس اور انسداد دہشت گردی اسکواڈ کو رپورٹ کی تھی کہ اسے گینگسٹر بنٹی پانڈے کی جانب سے دھمکی آمیز فون موصول ہو رہے ہیں اور ان سے دو ارب روپے طلب کیے جا رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG