رسائی کے لنکس

پشاور: دھماکے میں بم ڈسپوزل اسکواڈ کے چار اہلکار ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پشاور کے مضافاتی علاقے بڈھ بیر میں ایک بم کی اطلاع ملنے پر اسے ناکارہ بنانے کے لیے بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکار جا رہے تھے کہ اُن کی گاڑی کو ریمورٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا گیا۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں پیر کو سڑک میں نصب ایک بم دھماکے میں ’بم ڈسپوزل اسکواڈ‘ کے چار اہلکار ہلاک ہو گئے۔

پولیس کے مطابق پشاور کے مضافاتی علاقے بڈھ بیر کے گاؤں شیخ محمدی میں پیر کی صبح ایک بم کی اطلاع ملنے پر اسے ناکارہ بنانے کے لیے بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکار جا رہے تھے کہ اُن کی گاڑی کو ریمورٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا گیا۔

بم دھماکے سے گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں بم ناکارہ بنانے کے ایک ماہر افسر عبد الحق بھی شامل تھے۔

سڑک میں نصب بم دھماکے کے بعد پولیس کے مطابق قریبی علاقے سے موجود ایک اور بم کو ناکارہ بنایا گیا ہے۔

پشاور کے مضافاتی علاقے بڈھ بیر کی سرحدیں قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے ملتی ہیں اور اس سے قبل بھی یہاں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو شدت پسند خودکار ہتھیاروں اور بم دھماکوں سے نشانہ بناتے آئے ہیں۔

گزشتہ سال ستمبر میں بڈھ بیر کے علاقے میں ایک بم کو ناکارہ بناتے ہوئے بم ڈسپوزل اسکوڈ کے ماہر انسپکٹر حکم خان ہلاک ہو گئے تھے۔

صوبہ خیبر پختونخواہ میں بم ڈسپوزل اسکواڈ یونٹ کے سربراہ اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل پولیس شفقت ملک کہہ چکے ہیں کہ ان کی محکمے کی افرادی قوت اور استعداد کار محدود ہے جسے ان کے بقول مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ وسائل کی کمی کے باوجود گزشتہ چار سالوں کے دوران صوبے میں تقریباً پانچ ہزار مختلف نوعیت کے بموں کو ناکارہ بنایا جا چکا ہے۔

بم ڈسپوزل اسکواڈ کا کام ناصرف بموں کو ناکارہ بنانا ہوتا ہے بلکہ دھماکے کے بعد اس کی تحقیقات میں بھی اس ادارے کا کردار کلیدی ہوتا ہے کیوں کہ جائے وقوع سے شواہد جمع کرنا، بم کی نوعیت اور اس میں استعمال ہونے والا مواد، اس کی مقدار جیسی معلومات کا تعین کرنا بھی اسی یونٹ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
XS
SM
MD
LG