رسائی کے لنکس

کراچی میں دو خودکش حملے ، سات افراد ہلاک

  • عمیر ریاض

کراچی میں دو خودکش حملے ، سات افراد ہلاک

کراچی میں دو خودکش حملے ، سات افراد ہلاک

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں جمعرات کی شام ایک صوفی بزرگ کے مزار پہ کیے جانے والے یکے بعد دیگرے دو مبینہ خود کش حملوں میں سات افراد ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہوگئے ۔

مقامی پولیس حکام کے مطابق دونوں دھماکے مغرب کی نماز کے کچھ دیر بعد کلفٹن کے علاقے میں سمندر کے ساتھ واقع معروف صوفی بزرگ عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں ہوئے۔ حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دونوں دھماکے خودکش تھے جبکہ مبینہ حملہ آوروں کی عمریں 14 سے 17 سال کے درمیان تھیں۔

آئی جی سندھ پولیس صلاح الدین بابر خٹک کاکہنا ہے کہ پہلا دھماکہ مزار کے مین گیٹ کے نزدیک اس مقام پر ہوا جہاں مزار میں داخل ہونے والوں کی چیکنگ کی جارہی تھی۔ ان کے مطابق دوسرا دھماکہ دس سیکنڈ کے وقفے سے مزار کے احاطے کے اندر سیڑھیوں کے نزدیک ہوا۔

عینی شاہدین کے مطابق دونوں دھماکے شدید نوعیت کے تھے اور ان کی آواز کئی کلومیٹر تک سنی گئی۔ دھماکوں کے وقت جمعرات کا دن ہونے کی وجہ سے مزار پہ زائرین کی ایک بہت بڑی تعداد موجود تھی۔

سندھ کے صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر صغیر احمد نے دھماکوں میں دو بچوں سمیت سات افراد کے ہلاک اور 65 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ہلاک شدگان اور زخمیوں میں مزار کی سیکیورٹی پہ مامور اہلکار اور خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ شہر کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

سندھ کے صوبائی وزیرِ داخلہ ذوالفقار مرزا نے جائے وقوعہ پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دھماکوں کے مقام سے دو سر ملے ہیں جس کی بنیاد پر بظاہر یہ لگتا ہے کہ دونوں دھماکے خودکش حملے کا نتیجہ تھے۔

اس موقع پہ صوبائی وزیرِ داخلہ نے شہر بھر کے مزارات تا حکمِ ثانی سِیل کرنے کے احکامات جاری کیے ۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے مزار پر سیکیورٹی کے بھرپور اقدامات کیے گئے تھے لیکن بقول ان کے " جو ہونا تھا وہ ہوگیا"۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خودکش حملوں کو روکنا اور کسی بھی جگہ کو مکمل طور پر محفوظ بنانا ممکن نہیں تاہم حکومت کی جانب سے آئندہ بھی تمام عوامی مقامات کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

شہر کے سب سے بڑے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹرکے شعبہ حادثات کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق اسپتال میں 60 کے قریب زخمی منتقل کیے جاچکے ہیں جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جبکہ سیکیورٹی میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔

اسپتال کے میڈیکل سرجن کے مطابق اسپتال کے مردہ خانے میں دھماکوں میں ہلاک ہونے والے دو بچوں سمیت پانچ افراد کی لاشیں موجود ہیں، جبکہ دو سر بھی اسپتال منتقل کیے گئے ہیں جن کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ مبینہ حملہ آوروں کے ہیں۔

مزار کے احاطے کو پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے گھیرے میں لے رکھا ہے ۔ جبکہ شہر بھر میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔ تاہم شہر کے کئی علاقوں ، بشمول کورنگی، لانڈھی اور سائٹ میں ہوائی فائرنگ اور کشیدگی کی اطلاعات ہیں۔

صدر آصف علی زرداری نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے ان لوگوں کو اس کا ذمہ دار قرار دیا جو ملک میں اپنے انتہا پسندانہ انداز کا طرز زندگی نافذ کرنا چاہتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG