رسائی کے لنکس

کابل: افغان وزارتِ انصاف کے باہر دھماکہ، پانچ ہلاک


دھماکے کے بعد امدادی اہلکار جائے واقعہ پر موجود ہیں

دھماکے کے بعد امدادی اہلکار جائے واقعہ پر موجود ہیں

کابل پولیس کے ترجمان عباداللہ کریمی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ دھماکہ وزارتِ انصاف کی پارکنگ میں اس وقت ہوا جب ملازمین چھٹی کے وقت عمارت سے باہر نکل رہے تھے۔

افغانستان میں وزارتِ انصاف کے دفتر کے باہر ہونے والے ایک بم دھماکے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور کئی درجن زخمی ہوگئےہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے دوران کابل میں یہ پانچواں بم دھماکہ ہے جن میں سے تین کا نشانہ وزارتِ انصاف اور اس سے متعلقہ شعبوں کے ملازمین بنے ہیں۔

کابل پولیس کے ترجمان عباداللہ کریمی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ دھماکہ وزارتِ انصاف کی پارکنگ میں اس وقت ہوا جب ملازمین چھٹی کے وقت عمارت سے باہر نکل رہے تھے۔

ایک اور پولیس افسر نے خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ دھماکہ خیز مواد ایک کار میں رکھا گیا تھا۔

وزارتِ داخلہ کے ترجمان صادق صدیقی نے تصدیق کی ہے کہ دھماکے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ 42 زخمیوں کو دارالحکومت کے تین مختلف اسپتاوں میں منتقل کیا گیاہے۔

ترجمان کے مطابق دھماکہ اس قدر زوردار تھا کہ اس کی گونج پورے کابل شہر میں سنی گئی۔ تاحال کسی نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن حال ہی میں وزارتِ انصاف کے ملازمین پر ہونے والے دونوں حملوں کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی۔

پہلے پیش آنے والے دونوں واقعات میں خود کش حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑیاں افغانستان کے اٹارنی جنرل کے دفتر کے ملازمین کو لے جانے والی بسوں سے ٹکرادی تھیں جن میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس سے قبل اتور کو بھی ایک کار سوار خود کش حملہ آور افغانستان میں یورپی یونین کے پولیس مشن کے قافلے سے ٹکراگیا تھا جس کے نتیجے میں دو افغان اور ایک برطانوی شہری ہلاک ہوگئے تھے۔

حالیہ ہفتوں کے دوران افغانستان خصوصاً دارالحکومت کابل میں طالبان کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے جن کا خاص نشانہ غیر ملکی شہری اور سرکاری ملازمین بن رہے ہیں۔

چار روز قبل طالبان جنگجووں نے کابل کے ایک گیسٹ ہاؤس پر بھی حملہ کیا تھا جس میں کئی غیر ملکیوں سمیت 14 افراد مارے گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG