رسائی کے لنکس

رواں سال جنوری میں پیغمبر اسلام کی نواسی بی بی زینب کے روضے کے قریب بم دھماکے میں لگ بھگ 60 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

شام کے دارالحکومت دمشق کے مضافات میں کار بم دھماکے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق جس علاقے میں یہ دھماکا ہوا اُس کے قریب ہی سیدہ بی بی زینب کا مزار بھی ہے۔ شیعہ مسلک کے لیے بی بی زینب کا مزار انتہائی مقدس مقامات میں سے ایک ہے۔

رواں سال جنوری میں پیغمبر اسلام کی نواسی بی بی زینب کے روضے کے قریب بم دھماکے میں لگ بھگ 60 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ایک رہنما نے شام کے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ کار بم دھماکا مزار سے زیادہ دور نہیں ہوا۔

برطانیہ میں قائم تنظیم ’سیرئین آبزرویٹری فار ہیومین رائٹس‘ نے بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد نو بتائی ہے۔ جس علاقے میں یہ دھماکا ہوا وہاں سیکورٹی انتہائی چوکس رہتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ یہ علاقہ لبنان کے شیعہ حزب اللہ گروپ کا ایک مضبوط گڑھ ہے۔

حزب اللہ شام کے صدر بشار الاسد کا حامی ہے اور سرکاری فورسز کے ساتھ مل کر حکومت مخالف گروہوں کے خلاف لڑ رہا ہے۔

شام میں دیگر علاقوں سے آئے ہوئے شیعہ مسلمانوں کا موقف ہے کہ وہ بی بی زینب کے روضے کی حفاظت کے لیے یہاں آئے ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG