رسائی کے لنکس

معروف ادیب، عبید الرحمٰن کی دو نئی کتابوں کی تقریب رونمائی


مصنف کی دونوں تصانیف ’خیالات پریشاں‘ اور ’احوال واقعی‘ ۔۔۔۔ دراصل ان کے کالموں، کراچی میں پیش آنے والے اہم واقعات، وکالت کے دوران ان کے تجربات اور شہر کراچی کی بعض اہم سیاسی و سماجی شخصیات کی سوانح حیات پر مبنی تاریخی دستاویز ہے

ادبی تنظیم، ’حلقہ اربابِ ذوق‘ کے زیر اہتمام گذشتہ دنوں ورجنیا میں مقیم معروف مصنف اور قانون داں، عبیدالرحمٰن کی دو نئی کتابوں کی تقریب رونمائی ہوئی۔

مصنف کراچی میں وکالت کے پیشے سے وابستہ رہے، ساتھ ہی کالم نگاری کے ذریعے اپنے خیالات اور سماجی مسائل پر طبع آزمائی بھی کرتے رہے، اور کئی برس قبل ریٹائرمنٹ کے بعد امریکہ منتقل ہوئے۔

ان کی دونوں تصانیف ’خیالات پریشاں‘ اور ’احوال واقعی‘ ۔۔۔۔ دراصل ان کے کالموں، کراچی میں پیش آنے والے اہم واقعات، وکالت کے دوران ان کے تجربات اور شہر کراچی کی بعض اہم سیاسی و سماجی شخصیات کی سوانح حیات پر مبنی تاریخی دستاویز ہے۔

تقریب رونمائی کی صدارت، ڈاکٹر معظم صدیقی نے کی، جبکہ معروف ادبا و شعرائے کرام نے ان کی کتابوں پر اظہار خیال کیا اور اسے کراچی جیسے شہر اور اس کے باسیوں کے بارے میں اہم تحریر قرار دیا۔

امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے معروف شاعر خالد عرفان کا کہنا تھا کہ عبید الرحمٰن اس دور کے حالات کو اپنے قلم کے ذریعے قارعین تک پہنچانے کا ہنر جانتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں ماضی کے سیاسی و سماجی حالات کا عکس موجود ہے۔

معروف ادیب سیتا پال آنند نے کتاب اور مصنف پر تبصرہ کرتے ہوئےکہا کہ ’خوبصورت پیرائے میں تحریر کی گئی یہ تاریخ کی ایک کتاب ہے، جو اپنے دور کے حالات کو سمجھنے میں مدد دے گی‘۔

ڈاکٹر معظم صدیقی کا کہنا تھا کہ مصنف کا تعلق لکھنؤ سے ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کی دونوں کتابوں میں لکھنؤ کی تہذیب و تمدن کی جھلک موجود ہے۔ انھوں نے کراچی میں وکالت کے پیشے میں درپیش مسائل کو خوبصورت پیرائے میں پیش کیا ہے۔ انھوں نے ’خیالات پریشان‘ اور ’احوال واقعی‘ کو اردو تصانیف میں گراں قدر اضافہ قرار دیا۔

تقریب میں جسٹس غوث محمد کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا، جبکہ عزیز قریشی اور دیگر نے بھی کتاب پر اظہار خیال کیا۔

تقریب کے آخری حصے میں مشاعرہ منعقد ہوا، جس میں مقامی شعرا کے علاوہ نیویارک، نیورجرسی، فلاڈیلفیا اور دیگر شہروں سے آئے ہوئے معروف شعرائے کرام نے اپنا کلام پیش کیا۔

موسیقی اور ادب و ثقافت کسی معاشرے کی پہچان ہیں۔ امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی گرچہ بہتر معاشی مستقبل کی تلاش میں یہاں آئی، لیکن انھوں نے غم روزگار سے آگے بڑھ کر یہاں ادبی ماحول کو بھی فروغ دینا شروع کیا۔ صحافیوں، مصنفین اور شعرا کی درجنوں تنظمیں وجود میں آچکی ہیں، جن کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ادبی محافل نے، بقول شخصے، امریکہ میں پاکستانی کمیونٹی کو تنہائی کے احساس سے ضرور نکال باہر کیا ہے۔

programs vedio link

XS
SM
MD
LG