رسائی کے لنکس

بھارت اور چین کا سرحدی کشیدگی کا معاملہ حل کرنے پر اتفاق


بھارت اور چین کے وزرائے خارجہ

بھارت اور چین کے وزرائے خارجہ

عہدیداروں نے بتایا کہ چین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ متنازع علاقے میں سڑک کی توسیع نہیں کرے گا۔

بھارت کی وزیر خارجہ نے کہا کہ ملک کے شمال میں ہمالیہ کے پہاڑی سلسلہ میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری فوجی کشیدگی کو بھارت اور چین نے حل کر لیا ہے۔

سشما سوراج نے یہ بیان جمعہ کو اپنے چینی ہم منصب وانگ یی ان سے نیویارک میں ملاقات کے بعد دیا۔ اُنھوں نے کہا کہ چین نے اپنے فوجی علاقے سے واپس بلانا شروع کر دیئے ہیں اور یہ عمل منگل تک مکمل ہو جائے گا۔

بھارتی وزیر خارجہ نے اس معاملے کے حل کو ایک ’بڑی کامیابی‘ قرار دیا۔

لداخ کے سرحدی علاقے میں سینکڑوں چینی فوجی اُس علاقے میں داخل ہو گئے تھے جس کی ملکیت کا دعویدار بھارت ہے۔

بھارت کا کہنا ہے کہ چینی فوج نے اپنی سرحد کی جانب بنائی جانے والی سڑک کو اُس علاقے میں بھی وسعت دینے کی کوشش کی جس پر نئی دہلی کا دعویٰ ہے۔

عہدیداروں نے بتایا کہ چین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ متنازع علاقے میں سڑک کی توسیع نہیں کرے گا۔ اس کے جواب میں بھارت نے حال ہی میں نگرانی کے لیے بنائی گئی ایک چوکی کو منہدم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں بھارت اور چین کے درمیان لگ بھگ چار ہزار کلومیٹر کی طویل سرحد ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان تلخی کی وجہ رہی ہے۔

سرحد پر دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی چینی صدر ژی جنپنگ کے حالیہ دورہ بھارت کے درمیان بھی خبروں کا محور رہی۔

بھارت کا الزام ہے کہ حالیہ برسوں میں چین کی طرف سے سرحد کی مبینہ خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوا ہے تاہم اُن کا کہنا ہے کہ تازہ واقعہ حالیہ برسوں میں سب سے زیادہ سنگین تھا۔

XS
SM
MD
LG