رسائی کے لنکس

بوسٹن کیس: دو طالب علموں کا اقبالِ جرم سے انکار


اسکیچ

اسکیچ

دیاس قادربایوف اور عظمت تزہاکوف، جن کا تعلق قزاقستان سے ہے، منگل کے روز بوسٹن کے کمرہٴعدالت میں پیش ہوئے

بوسٹن میراتھون مقدمے میں کالج کے دو طالب علموں نے اس الزام کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے کہ اُنھوں نے مبینہ طور پر مشتبہ شخص کے شواہد مٹانے میں اُس کی معاونت کی۔

دیاس قادربایوف اور عظمت تزہاکوف، جن کا تعلق قزاقستان سے ہے، منگل کے روز بوسٹن کے کمرہٴعدالت میں پیش ہوئے۔

اُن پر الزام ہے کہ اُنھوں نے مبینہ حملہ آور زخار تمرنیف کے لیپ ٹاپ کمپیوٹر کو ٹھکانے لگانے کی کوشش کی، جو شواہد سے پُر تھا۔

قادربایوف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اُن کے مؤکل نے فوری طور پر ایف بی آئی سے تعاون کرتے ہوئے کمپیوٹر اُن کے حوالے کیا اور پیٹھ پر اٹھائے جانے والے تھیلے کے بارے میں بتایا۔

ایجنٹس نے اُسے مٹی کے ایک ڈھیر سے دوبارہ قبضے میں لیا۔

تزہاکوف کے وکیل نے بتایا کہ اُن کے مؤکل کو شواہد کے بھنڈار کے پھینکے جانے سے کوئی سرو کار نہیں۔

الزام ثابت ہونے کی صورت میں دونوں کو 25برس تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

تمرنیف اور اُن کے بھائی تمرلان نےاپریل میں ہونے والے بوسٹن میراتھون کے دوران مبینہ طور پر ’فِنش لائن‘ کے قریب دو بم دھماکے کیے جِن کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور 264 زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں سے کچھ کی ٹانگیں ضائع ہوگئی تھیں۔

فائر کے تبادلے کے دوران، پولیس نے تمرلان کو ہلاک کر دیا تھا۔

زخار بوسٹن کے مضافات میں واقع عقبی صحن کے حصے میں کھڑی ایک کشتی میں چھپا ہوا پایا گیا۔ وہ وفاقی جیل کے اندر مقدمے میں حاضری کے انتظار میں ہے۔
XS
SM
MD
LG