رسائی کے لنکس

بوسٹن میراتھون کیس، جرم کے تعین پر دلائل


عدالت کے باہر

عدالت کے باہر

اب تک، ملزم، زوخار نے اپنا بیان ریکارڈ نہیں کرایا۔ لیکن، اگر اُنھیں قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے، تو سزا کے تعین کے مرحلے کی سماعت کے دوران، متوقع طور پر، وہ اپنا مؤقف درج کرا سکتے ہیں

بوسٹن میراتھون بم حملہ کیس کی جاری سماعت کے میں استغاثہ اور ملزم کی پیروی کرنے والے وکلا ملزم، زوخار سارنیف کے ملوث ہونے یا نہ ہونے پر حتمی دلائل پیش کر رہے ہیں۔

اِن دلائل کا محور یہ ہے آیا 15 اپریل، 2013ء کے حملے میں ملوث ہونے پر، جِس میں تین افراد ہلاک ہوئے، ملزم زوخار سارنیف کو موت کی سزا ہوگی۔ تین روز بعد، ایک پولیس اہل کار کی ہلاکت کا الزام بھی اُن پر عائد ہے۔

جیوری کی جانب سے زوخار سارنیف کو قصوروار قرار دیے جانے کی صورت میں، یہ طے کیا جائے گا آیا اُن کو کیا سزا ہو سکتی ہے۔

مدعا علیہ نے دلیل دی ہے کہ زوخار سارنیف کالج کا ایک بے ضرر طالب علم تھا، جو اپنے بڑے بھائی، تمرلان سارنیف کے زیر ِاثر آ کر شدت پسندی کی طرف مائل ہوا۔ تمرلان میراتھون بم حملے کے چار روز بعد، پولیس کے ساتھ گولیوں کے تبادلے کے دوران ہلاک ہوا۔
مقدمے کے پہلے مرحلے کے دوران، ملزم کی پیروی کرنے والے وکلا نے یہ دلیل پیش نہیں کی تھی۔ تاہم، وہ سزا کے تعین کے معاملے پر سماعت کے دوران، اپنا مؤقف پیش کریں گے۔

زوخار سارنیف کو موت کی سزا ہو سکتی ہے؛ یا پھر اُنھیں ضمانت کے بغیر عمر قید ہوگی۔

اب تک، ملزم، زوخار نے اپنا بیان ریکارڈ نہیں کرایا۔ لیکن، اگر اُنھیں قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے، تو سزا کے تعین کے مرحلے کی سماعت کے دوران، متوقع طور پر، وہ اپنا مؤقف درج کرا سکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG