رسائی کے لنکس

یہ کشتی شناخت نہ ہونے والے ایک مقام پر کھڑی تھی، جس کا ایسو سی ایٹڈ پریس اور ’ڈبلیو بی یو آر‘ ریڈیو کے دو نمائندوں نے بھی مشاہدہ کیا۔ کشتی پر ہر طرف سے لگنے والی گولیوں کےکم از کم 110 نشان ہیں، جو سارنیف کی گرفتاری کے دوران لگیں

بوسٹن میراتھون ریس بم حملوں کا مقدمہ سننے والی جیوری نے پیر کے دِن اُس کشتی کا معائنہ کیا جہاں، مہلک حملوں کے بعد بڑے پیمانے پر چلائے گئے تلاش کے کام کے دوران، ملزم زوخار سارنیف نے اہل کاروں سے بچنے کے لیے پناہ لے رکھی تھی۔

یہ کشتی شناخت نہ ہونے والے ایک مقام پر کھڑی تھی، جس کا ایسو سی ایٹڈ پریس اور ’ڈبلیو بی یو آر‘ ریڈیو کے دو نمائندوں نے بھی مشاہدہ کیا۔ کشتی پر ہر طرف سے لگنے والی گولیوں کےکم از کم 110 نشان ہیں، جو سارنیف کی گرفتاری کے دوران لگیں۔

اکیس برس کے سارنیف پر الزام ہے کہ 15 اپریل، 2013ء کو دیسی ساختہ پریشر کُکر بموں کی مدد سے دوڑ کی فنش لائن کے قریب حملہ کیا، جس میں تین افراد ہلاک اور 264 زخمی ہوئے؛ اور پھر تین روز بعد، ایک پولیس اہل کار کو گولیاں چلا کر ہلاک کیا۔

ملزم کے وکلا نے تسلیم کیا ہے کہ سارنیف سے ہی وہ جرائم سرزد ہوئے، جن کا الزام اُن پر عائد ہے۔ لیکن، اُن کا مؤقف ہے کہ اُس کا ذمہ دار اُن کے بڑے بھائی، 26سالہ تمرلان تھا۔ ملزم کے وکلا کی کوشش یہ ہے کہ اُن کے مؤکل کے خلاف بوسٹن میں امریکی ضلعی عدالت کی طرف سے جاری مقدمے میں سزا ہونے کی صورت میں، اُنھیں موت کی سزا سے بچایا جاسکے۔

دونوں پر الزام ہے کہ اُنھوں نے پولیس اہل کار پر گولیاں چلائیں، جس پر کارروائی کی گئی اور کچھ ہی گھنٹوں بعد سارنیف ہلاک ہوا۔ گولیوں کا یہ تبادلہ اُس وقت دھیما پڑا جب زوخار تمرلان مبینہ طور پرایک گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے بھاگ نکلنے کی کوشش کی جس کے نتچے آکر، تمرلان ہلاک ہوا۔

متوقع طور پر اس ہفتے پیش ہونے والی شہادتوں کا تعلق گولیوں کے تبادلے کے بعد کے لمحات سے ہے، جب بوسٹن کے وسیع تر علاقے کے مکین لاکھوں شہریوں سے کہا گیا تھا کہ جب تک سارنیف کی تلاش جاری ہے، وہ اپنے گھروں تک محدود رہیں۔ وہ 19 اپریل، 2013ء کو ایک کشتی میں چھپے ہوئے پائے گئے، جو واٹرٹاؤن کے قصبے کے نشیب میں خشکی پر کھڑی تھی۔

کشتی کے اندرونی حصے میں سارنیف نے پینسل سے ایک نوٹ تحریر کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ یہ حملہ امریکی فوج کی جانب سے مسلمان اکثریتی ملکوں میں کیے جانےوالے حملے کا بدلہ ہیں۔ خون کی دو عدد دھاریوں کے نشانات واضح ہیں۔

معائنے کے دوران سارنیف ایک سفید رنگ کی خیمے کے اندر بغیر ہتھ کڑی لگے خاموشی سے بیٹھا رہا۔

بم حملوں کے نتیجے میں ریستوران کے 29 برس کے منیجر، کرسٹل کیمپ بیل؛ گریجوئیٹ کلاس کے 23 سالہ شاگرد لِنگزی لو، اور ساتھ ہی، آٹھ برس کے مارٹن رچرڈ ہلاک ہوئے۔ تین روز بعد، میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے 27 برس کے پولیس اہل کار، شین لولیئر کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG