رسائی کے لنکس

بوسٹن: پولیس اہل کار کی ہلاکت، زوخار پر مقدمہ چلایا جائے


فائل

فائل

وکیل، ماریان ریان نے اخبار ’بوسٹن گلوب‘ کو بتایا کہ ’جب کسی نےمڈل سیکس کاؤنٹی میں آکر سرکاری فرائض انجام دینے والے ایک پولیس اہل کار کو مارا۔ یہ بالکل مناسب بات ہے کہ ایسے شخص کو اُسی کاؤنٹی میں لاکر اس قصور پر انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔‘

میساچیوسٹس کی ایک ضلعی اٹارنی نے کہا ہے کہ وہ اِس بات کی خواہاں ہیں کہ بوسٹن میراتھون ریس کے مجرم، زوخار سارنیف کے خلاف ایک کالج کے پولیس اہل کار کے قتل کا مقدمہ چلایا جائے، حالانکہ اُسے پہلے ہی موت کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

ماریان ریان نے اخبار ’بوسٹن گلوب‘ کو بتایا کہ ’جب کسی نےمڈل سیکس کاؤنٹی میں آکر سرکاری فرائض انجام دینے والے ایک پولیس اہل کار کو مارا، تو یہ بالکل مناسب بات ہے کہ ایسے شخص کو اُسی کاؤنٹی میں لاکر اس قصور پر انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔‘

ریان نے کہا کہ اِس ضمن میں اُنھوں نے سارنیف کو کولوراڈو کے وفاقی اصلاح گھر سے بوسٹن لانے کی درخواست دی ہے۔

ایک وفاقی جج نے 2013ء کے بوسٹن میراتھون دوڑ میں بم حملے کا الزام ثابت ہونے پر زوخار سارنیف کو موت کی سزا سنائی تھی، جس میں تین افراد ہلاک اور 260 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ دیگر وفاقی الزامات میں میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے پولیس اہل کار، شین کولیئر کو گولی مار کر ہلاک کرنا شامل ہے۔

دوسرا مقدمہ چلانا نہ صرف مہنگا معاملہ ہے، اور ہوسکتا ہے کہ متاثرین کے لیے ممکنہ ذہنی اذیت کا باعث بنے۔ لیکن، ریان اس امکان پر غور کر رہی ہیں کہ اُن کی اپیل پر موت کی سزا کو روک کر مقدمہ چلایا جائے۔

زوخار اور اُن کے بھائی، تمرلان نے بوسٹن سے بھاگ نکلنے کی کوشش کے دوران ایم آئی ٹی کیمپس میں گولی چلا کر کولیئر کو ہلاک کیا تھا۔ حکام کا خیال ہے کہ وہ کولیئر کی بندوق چرانے کی کوشش میں تھے۔

تمرلان پولیس کے ساتھ گولیوں کے تبادلے کے دوران شدید زخمی ہونے والے زوخار کو بوسٹن کے ایک گھر کی پشت پر پارک کی ہوئی ایک کشتی میں چھپا ہوا برآمد کیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG