رسائی کے لنکس

میراتھون مقدمہ، اہل کاروں پر ضابطوں پر عدم توجہی کا الزام


عدالتی اسکیچ

عدالتی اسکیچ

کارروائی کے دوران پیش کی گئی سرکاری رپورٹ کے مطابق، زوخار سارنیف اور اُن کے بڑے بھائی، تمرلان سے گولیوں کے تبادلے کے دوران پولیس اہل کاروں نے اسلحے کے استعمال میں ’ضابطوں پر عدم توجہی کا مظاہرہ کیا‘

بوسٹن میراتھون بم حملہ کیس کی سماعت جمعے کو جاری رہی۔ ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے کی گئی کارروائی سے متعلق سرکاری رپورٹ پیش کی گئی، جس کے مطابق، قانون کا نفاذ کرنے والے اداروں نے مشتبہ ملزمان کو پکڑنے کے لیے گولیوں کے تبادلے کے دوران ضابطوں پر مبینہ عدم توجہی کی بنا پر ’خطرناک صورت حال‘ درپیش آئی۔

رپورٹ کے مطابق، زوخار سارنیف اور اُن کے بڑے بھائی، تمرلان سے گولیوں کے تبادلے کے دوران پولیس اہل کاروں نے اسلحے کے استعمال میں ’ضابطوں پر عدم توجہی‘ کا مظاہرہ کیا۔ تمرلان 19 اپریل، 2013ء کو صبح سویرے ہلاک ہوا تھا۔

اسلحے سے متعلق یہ مسائل اس وقت بھی سامنے آئے جب اہل کاروں نے تمرلان کے چھوٹے بھائی کو پکڑنے کے لیے کارروائی کی۔ یہ بات میساچیوسٹس کے ہنگامی صورت حال سے نمٹنے پر مامور ادارے کی جانب سے جاری کردہ 130 صفحات پر محیط رپورٹ میں کہی گئی ہے۔

اکیس برس کے زوخار سارنیف کے خلاف اِن دِنوں ایک وفاقی عدالت سے سامنے مقدمے کی سماعت جاری ہے۔

ملزم پر 15 اپریل، 2013ء کو بوسٹن میراتھون ریس میں دو پریشر کوکر بموں سے حملہ کرنے کا الزام ہے، جس میں تین افراد ہلاک جب کہ 264 زخمی ہوئے۔

ساتھ ہی، تین روز بعد جب زوخار اور تمرلان شہر سے بچ نکلنے کی کوشش کر رہے تھے، ملزم پر الزام ہے کہ میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے تعلق رکھنے والے ایک پولیس اہل کار کو قتل کیا گیا۔

استغاثہ کا استفسار ہے کہ پولیس اہل کار کو ہلاک کرنے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد دونوں برادران میساچیوسٹس کے شہر، واٹر ٹاؤن چلے گئے، جہاں اُن کا قانون کا نفاذ کرنے والے اہل کاروں کے ساتھ گولیوں کا تبادلہ ہوا، جنھوں نے شہر کے مضافات میں اُن کی موجودگی کا کھوج لگا لیا تھا۔

XS
SM
MD
LG