رسائی کے لنکس

بوسٹن میراتھون کیس، بدھ سے باقاعدہ سماعت کا آغاز


جیوری کا ایک ممکنہ رُکن
جیوری کا ایک ممکنہ رُکن

جج، جارج او تولے مقدمے میں خاص نوعیت کی شہادت کو محدود کرنے سے متعلق وکلا کی استدعا کو زیر غور لانا تھا۔ چونکہ، اٹھائے گئے نکات کا عام اعلان نہیں ہوا، اِس لیے یہ بات واضح نہیں آیا وہ کون سی قانونی تحاریک پر غور کریں گے

بوسٹن میراتھون دوڑ پر بم حملے کے ملزم، زوخار سارنیف پیر کو عدالت میں پیش ہونے والے تھے۔ بدھ کو مقدمے کے آغاز سے قبل، اُن کے وکلا اور امریکی استغاثہ پیر کو قانونی معاملات کے حل کے لیے دلائل پیش کرنے والےتھے۔

جج، جارج او تولے مقدمے میں خاص نوعیت کی شہادت کو محدود کرنے سے متعلق وکلا کی استدعا کو زیر غور لانا تھا۔ چونکہ، اٹھائے گئے نکات کا عام اعلان نہیں ہوا، اِس لیے یہ بات واضح نہیں آیا وہ کون سی قانونی تحاریک پر غور کریں گے۔

منگل کے روز وکلاٴ21 برس کے سارنیف کے خلاف مقدمے کی سماعت کے لیے جیوری کا چناؤ کریں گے۔

اُن پر دیسی ساختہ پریشر ککر کی مدد سے 15 اپریل 2013ء کو دوڑ کی اختتامی لائن پر دھماکہ کرکے تین افراد کو ہلاک اور 264 کو زخمی کرنے کا الزام ہے؛ ساتھ ہی، واقع کے تین روز بعد بوسٹن سے بھاگ نکلنے کی کوشش کے دوران، ایک پولیس اہل کار کو ہلاک کرنے کا الزام عائد ہے۔

جیوری کے اصل 1350 سے زائد ممکنہ ارکان میں سے تعداد کم کرکے 70 تک لائی گئی ہے، جن میں سے اب جیوری کے 12 ارکان اور چھ متبادل جیوری کا انتخاب کیا جائے گا، جو اس مقدمے کی سماعت کریں گے۔ جج، او تولے نے کہا ہے کہ مقدمے کی سماعت جون تک چلنے کا امکان ہے۔

سارنیف کے وکلا اس بات کے خواہاں ہیں کہ یہ مقدمہ بوسٹن سے باہر سنا جائے، جس کی وجہ وہ اس بات کو قرار دیتے ہیں کہ چونکہ جیوری کے ممکنہ ارکان کو اِن حملوں سے ذاتی تعلق رہا ہے، اس لیے وہ غیر وابستہ نہیں رہ سکتے۔ ایک اپیل کورٹ نے جمعے کےدِن یہ استدعا مسترد کردی تھی۔

الزام ثابت ہونے کی صورت میں، سارنیف کو موت کی سزا ہو سکتی ہے، کہ 2001ء کے دہشت گرد حملوں کے بعد، جس میں تقریباً 3000 افراد ہلاک ہوئے، یہ سب سے بڑی ہلاکت خیز کارروائی تھی۔

XS
SM
MD
LG