رسائی کے لنکس

ایک معذور شخص، 36 برس کے مارک فکارلے نے بتایا کہ دوسرے دھماکے کے بعد وہ زمین پر جاگرے، اور کسی نے زور سے آواز دی کہ اس کے کپڑوں میں آگ لگی ہوئی ہے

بوسٹن میراتھون بم حملہ آور، زوخار سارنیف کا مقدمہ سننے والی جیوری نے جمعرات کو 18 افراد کی تصاویر پر غور کیا، جن کے اعضا 2013ء کے ہلاکت خیز حملے میں ضائع ہوگئے تھے، جب کہ دو متاثرین، جن کی ٹانگیں ضائع ہوگئی تھیں، اُن کی روداد سنی۔

وفاقی جیوری اِن دِنوں اس بات پر غور کر رہی ہے، آیا مجرم کو سزائے موت دی جائے۔

ایک معذور شخص، 36 برس کے مارک فکارلے نے بتایا کہ دوسرے دھماکے کے بعد وہ زمین پر جاگرے، اور کسی نے زور سے آواز دی کہ اس کے کپڑوں میں آگ لگ چکی ہے۔

فکارلے جن کی دائیں ٹانگ، حملےکے بعد کاٹ دی گئی تھی، کہا کہ مجھےیاد ہے کہ میرے سینے پر سخت دباؤ تھا، مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے میرے سینے پر کوئی بیٹھا ہوا ہے۔ دراصل، یہ ایک نرس تھیں۔ مجھے اُن کی پیخ و پکار اب بھی یاد ہے کہ آگ نہیں بجھی۔

فکارلے نے اپنی شہادت بوسٹن میں امریکی ضلعی عدالت کے سامنے درج کرائی، جو آج تیسرے روز سزا کے تعین پر غور کر رہی ہے۔ جیوری کے ارکان اس بات کو طے کر رہے ہیں آیا 21 برس کے چیچن نژاد زوخار کو سزائے موت یا بغیر ضمانت کےعمر قید دی جائے۔

اِسی جیوری نے اس ماہ کے اوائل میں زوخار کو 15 اپریل، 2013ء کے حملے میں تین افراد کو ہلاک اور 264 کو زخمی کرنے کا الزام ہے، اور تین دِن بعد ایک پولیس اہل کار کو شدید زخمی کرنے کا الزام تھا، جس میں اِن کا بڑا بھائی بھی شامل تھا، ایسے میں جب دونوں شہر سے بھاگ نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔

جب پہلا بم دھماکہ ہوا، ہیتھر ایبٹ فورٹ ریستوران کے سامنے کھڑی تھیں۔ اُنھوں نے عدالت کو دھماکوں اور اُس کے نتیجے میں زخمی ہونے کی تفصیل بتائیں۔

XS
SM
MD
LG