رسائی کے لنکس

سخت سکیورٹی میں بوسٹن میراتھن کا انعقاد


فائل

فائل

دوڑ کا آغاز پیر کی صبح ہوا جس میں شرکت کے لیے 30 ہزار افراد نے اپنا اندراج کرایا ہے۔

امریکہ کے شہر بوسٹن میں پیر کو روایتی سالانہ میراتھن دوڑ کا اہتمام کیا گیا جس کے لیے شہر بھر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔

دوڑ کا آغاز پیر کی صبح ہوا جس میں شرکت کے لیے 30 ہزار افراد نے اپنا اندراج کرایا ہے۔ میراتھن کے ہزاروں شرکا کی حوصلہ افزائی کے لیے ہزاروں تماشائی بھی مقررہ راستوں کے دونوں طرف موجود ہیں۔

امریکی ریاست میساچوسٹس کے اس شہر میں گزشتہ ایک صدی سے زائد عرصے سے ہر سال ہونے والی یہ میراتھن دنیا کی سب سے قدیم اور مسلسل ہونے والی دوڑ ہے جس میں شرکت کے لیے ہر سال امریکہ اور دنیا بھر سے شائقین پہنچنے بوسٹن پہنچتے ہیں۔

سنہ 2013ء میں بوسٹن میراتھن کے دوران ہونے والے بم دھماکوں کے بعد یہ دوسری ریس ہے جس کا انعقاد سخت سکیورٹی میں کیا جارہا ہے۔

دو سال قبل 15 اپریل کو دو مسلمان بھائیوں تیمرلان اور جوہر سارنیف نے میراتھن کے اختتامی پوائنٹ کے نزدیک گھریلو ساختہ بموں کے دھماکے کیے تھے جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور 264 زخمی ہوگئے تھے۔

حملے کے چند دن بعد 26 سالہ تیمرلان پولیس کے ساتھ مقابلے میں مارا گیا تھا جب کہ 19 سالہ جوہر کو مسلسل کئی روز جاری رہنے والی تلاش کے بعد زخمی حالت میں حراست میں لے لیا گیا تھا۔

رواں ماہ بوسٹن کی ایک جیوری نے جوہر پر عائد کیے جانے والے تمام 30 الزامات کو درست قرار دے دیا ہے۔ ملزم کو آئندہ ہفتے دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں وکلائے استغاثہ جج سے ملزم کو موت کی سزا دینے کی استدعا کریں گے۔

پیر کو ہونے والی 119 ویں سالانہ بوسٹن میراتنک میں بعض ایسے افراد بھی شریک ہیں جو 2013ء کی دوڑ کے دوران ہونے والے دھماکوں میں زخمی ہوئے تھے۔

بوسٹن پولیس کے سربراہ ولیم بی ایوانز کے مطابق میراتھن کے 2ء26 میل طویل راستے پر کئی چوکیاں قائم کی گئی ہیں جب کہ بموں کا سراغ لگانے والے کتوں کے ذریعے بھی راستے کو مسلسل چیک کیا جارہا ہے۔

تماشائیوں اور ان کے سامان کی کڑی تلاشی کے بعد ہی انہیں دوڑ کے مقررہ راستوں کے گرد کھڑے ہونے کی اجازت دی جارہی ہے۔

XS
SM
MD
LG