رسائی کے لنکس

بارہ برس تک بے ہوشی میں زندہ رہنے والا لڑکا چل بسا


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ایڈن کو مارچ 2004  میں مینسفیلڈ اسپتال کے ہنگامی طبی امداد کے شعبے میں اس وقت لایا گیا تھا جب اس کے اکیس سالہ والد میتھیو اسٹائن نے چار ماہ کے ایڈن کو زور سے ہلایا تھا اور وہ بے ہوش ہوگیا تھا۔

چار ماہ کی عمر میں بے ہوش ہونے کے بعد تمام عمر بے ہوش رہنے والے لڑکے کی 12 سال کی عمر میں موت واقع ہوگئی ہے۔

اتوار کو کولمبس اسپتال میں ایڈن اسٹائن کی موت واقع ہوئی جہاں وہ شدید دماغی چوٹ کے نتیجےمیں ویجی ٹیٹیو حالت یا ایک طرح سے مردہ دماغ کے ساتھ پچھلے بارہ سالوں سے مصنوعی تنفس پر زندہ تھا۔

ایڈن کو مارچ 2004 میں مینسفیلڈ اسپتال کے ہنگامی طبی امداد کے شعبے میں اس وقت لایا گیا تھا جب اس کے اکیس سالہ والد میتھیو اسٹائن نے چار ماہ کے ایڈن کو زور سے ہلایا تھا اور وہ بے ہوش ہوگیا تھا۔

اس کیس کو اس وقت میڈیا کی توجہ حاصل ہوئی تھی جب کاونٹی پروبیٹ عدالت کی طرف سے بچے کی زندگی کو برقرار رکھنے کے آلات (لائف سپورٹ) کو ہٹا دینے کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک نگہبان مقرر کیا تھا۔

لیکن بچے کے والدین کی طرف سے نگہبان کو روکنے کے لیے ایک کامیاب قانونی جنگ لڑی گئی تھی اور اپریل 2004 میں اوہائیو کی سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا تھا کہ جب تک بچے کے والدین مستقل طور پر والدین کے حقوق سے محروم نہیں کیے جاتے عدالت کے پاس نگہبان کو ایڈن کو زندہ رکھنے کی دیکھ بھال کو روکنے کی اجازت دینے کا اختیار نہیں ہے۔

بچے کے والد اسٹائن کو بعد میں بچے پر سنگین حملہ کرنے اور بچے کی جان خطرے میں ڈالنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا اور باوجود اس کے کہ وہ جان بوجھ کر بچے کو زخمی کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا اس نے آٹھ سال جیل میں گزارے ہیں۔

اس وقت ایکرون میں واقع بچوں کے اسپتال میں ایڈن میں شدید دماغی چوٹ کی تشخیص ہوئی تھی جبکہ ڈاکٹروں نے اسے بچےکےخلاف تشدد قرار دیا تھا۔

اسپتال کی طرف سے سفارش کی گئی تھی کہ بچے کی دیکھ بھال کے لیے ایک نگہبان مقرر کیا جائے کیونکہ ڈاکٹروں کو بچے کے والدین کے حوالے سے شکوک وشبہات تھے۔

اسپتال کی طرف سے بچے کو مصنوعی تنفس سے ہٹا دینے کی سفارش بھی کی گئی تھی۔

اپریل2004 میں کاونٹی پروبیٹ عدالت کی سماعت میں تین ڈاکٹروں نے یہ گواہی دی تھی کہ ایڈن مستقل وجی ٹیٹیو مریض یا طویل بے ہوشی کی حالت میں ہے اور وہ ہلانے کی وجہ سے زخمی ہوا تھا۔

بچے کی موت کے بعد رچلینڈ کاونٹی کے پراسیکیوٹرز بامبی کاوچ پیج نے بدھ کے روز ایسوسی ایٹیڈ پریس کو بتایا کہ اسٹائن کے خلاف مزید الزامات عائد کرنے کا امکان نہیں ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ایڈن کی موت کی وجہ کو دیکھنا پڑے گا لیکن جیوری کو شاید پھر سے اپنے ذہنوں پر زور ڈالنا پڑے گا کہ ایڈن کی موت اتنے طویل عرصے بعد اس کے والد کی غلطی کے نتیجے میں ہوئی ہے۔

ادھر ایڈن کی والدہ ایریکا ہائیم لیک نےحکام سے کہا کہ وہ اس بات پر یقین نہیں رکھتی ہیں کہ اسٹائن نے اپنے بچے کو زخمی کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG