رسائی کے لنکس

لڑکوں نے امتحان میں اعلیٰ مہارت کا ثبوت دیتے ہوئے یا تو ٹاپ اسکور یعنی ' اے گریڈ' اور 'اے اسٹار' گریڈ حاصل کیا تھا یا پھر امتحان میں ناکام ہو گئے تھے۔

ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اگرچہ لڑکیوں میں مجموعی طور پر امتحانات میں بہتر کارکردگی دکھانے کا رجحان ملتا ہے، لیکن نئی تحقیق کے نتائج سے پتا چلتا ہے کہ لڑکے امتحانات میں یا تو 'شاندار کارکردگی' کا مظاہرہ کرتے ہیں یا پھر 'خراب کارکردگی' کے باعث فیل ہو جاتے ہیں۔

پیر کو شائع ہونے والے مطالعے سے ظاہر ہوا، کہ لڑکوں نے لڑکیوں کے مقابلے میں اپنے امتحان میں انتہائی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، لڑکوں نے امتحان میں اعلیٰ مہارت کا ثبوت دیتے ہوئے یا تو ٹاپ اسکور یعنی ' اے گریڈ' اور 'اے اسٹار' گریڈ حاصل کیا تھا یا پھر امتحان میں ناکام ہو گئے تھے۔

برطانوی کالج کے طلبہ کے نتائج پر مشتمل مطالعہ بکنگھم یونیورسٹی میں تعلیم اور روزگار کے ڈائریکٹر اور پروفیسر ایلن اسمتھرز کی طرف سے منعقد کیا گیا تھا۔

اعداد و شمار کے تجزیے سے ظاہر ہوا کہ اے لیول (انٹرمیڈیٹ) کے امتحانات میں لڑکے لڑکیوں کے مقابلے میں 'اے اسٹار گریڈ' کے ساتھ آگے ہیں، اس نتیجے کے برعکس امتحان کم از کم 'سی گریڈ' سے پاس کرنے کےحوالے سے لڑکے لڑکیوں سے تقریباً سات فیصد پیچھے تھے۔

پروفیسر ایلن نے نشاندہی کی کہ لڑکوں میں اے اسٹار گریڈ حاصل کرنے کی قابلیت زیادہ تر ریاضی اور ایڈوانس ریاضی کے مضامین میں ظاہر ہوتی ہے۔ جس میں 25.5 فیصد لڑکوں نے اے اسٹار گریڈ کے ساتھ ریاضی کا امتحان پاس کیا جبکہ ان کے مقابلے میں لڑکیوں میں ریاضی میں اے اسٹار حاصل کرنے کی اوسط 8.5 تھی۔

انھوں نے کہا کہ عام طور پر لڑکیاں لڑکوں کے مقابلے میں امتحانات میں زیادہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں، ان کی تعلیمی کارکردگی مجموعی طور پر زیادہ بہتر ہوتی ہے لیکن لڑکوں میں یا تو ٹاپ اسکور حاصل کرنے یا پھر امتحان میں ناکام ہونے کے امکان ملتا ہے۔

محقق ایلن کے مطابق پچھلے سالوں کے دوران ریاضی انٹرمیڈیٹ کے طلبہ کا مقبول مضمون بن گیا ہے اور برطانوی تعلیمی اداروں میں ریاضی پڑھنے والے طلبہ کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ لڑکے ریاضی کے میدان میں لڑکیوں پر اپنی سبقت برقرار رکھیں گے۔

XS
SM
MD
LG