رسائی کے لنکس

پینے کا کھارا پانی، تھرپارکر کا سنگین مسئلہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ایک مقامی غیر سرکاری تنظیم "اویئر" کی طرف سے کئے گئے ایک مطالعاتی جائزے کے مطابق ہر گھر کے تین افراد کے روزانہ تین سے پانچ گھنٹے پانی کے حصول میں صرف ہوتے ہیں۔

پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کے علاقے تھر پارکر کے باسیوں کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہے لیکن ان میں سب سے بڑی مشکل پینے کے صاف پانی کا معاملہ ہے۔

اسی لیے جب اس علاقے کی ایک مکین سند بائی کو یہ معلوم ہوا کہ ان کے علاقے میں پانی کو صاف کرنے کا ایک پلانٹ نصب کیا جا رہا ہے تو ان کے لیے یہ ایک اطمینان بخش امر تھا کہ شاید اب اس کی پینے کے صاف پانی کے حصول کی مشکلات کم ہو جائیں گی۔

اپنی ساری زندگی کے دوران سند بائی اپنے سر پر مٹی کا گھڑا اٹھا کر اپنے گھر سے دور واقع کنوؤں سے پانی حاصل کرتی رہی ہیں لیکن یہ پانی بھی اتنا ہی نمکین تھا جیسا کہ سمندری پانی ہوتا ہے۔

اب وہ بہت بوڑھی ہو چکی ہیں لیکن صاف پانی کے حصول کی مشکلات کم نہیں ہوئیں اور اب ان کے خاندان کی دوسری ںوجوان خواتین یہ کام کرتی ہیں۔

پاکستان کے جنوب مشرق میں واقع 22,000 مربع کلومیٹر پر پھیلا تھر کا علاقہ سند بائی کا آبائی وطن ہے اور یہاں کے 15 لاکھ باشندوں کو اکثر پانی کی کمی اور خشک سالی کا سامنا رہتا ہے جو اکثر غذا ئی قلت اور قحط کا سبب بنتا ہے۔

یہاں بارشیں نہایت کم ہوتی ہیں اور وہ بھی صرف جولائی اور ستمبر میں مون سون کے موسم ہی میں ہوتی ہیں اور سال کے باقی مہینوں میں ان کا انحصار زیر زمین پانی پر ہوتا ہے جو کنوئیں کھود کر حاصل کیا جاتا ہے۔

ایک مقامی غیر سرکاری تنظیم "اویئر" کی طرف سے کئے گئے ایک مطالعاتی جائزے کے مطابق ہر گھر کے تین افراد کے روزانہ تین سے پانچ گھنٹے پانی کے حصول میں صرف ہوتے ہیں۔

اس صحرائی علاقے میں پانی تک رسائی ہی مشکل نہیں بلکہ قابل استعمال پانی کی قلت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق زیر زمین نمکیات اور دیگر قدرتی اجزا کی زیادتی کے باعث تھر میں دستیاب پانی میں سے 80 فیصد انسانوں کے لیے قابل استعمال نہیں۔

بائی کے گاؤں کی خواتین اس بات کی شکایت کرتی ہیں کہ انہیں گھریلو استعمال کے لیےکھارے پانی کے حصول کے لیے ایک کنوئیں پر جانا پڑتا ہے جبکہ انہیں اپنے بچوں کے لیےمیٹھے پانی کے لیے بہت دور واقع دوسرے کنوؤں پر جانا پڑتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ "وہ بچوں کے لیے میٹھا پانی حاصل کرتی ہیں کیونکہ بصورت دیگر ان کے پیٹ خراب ہو جاتے ہیں"۔

پانی کو صاف کرنے والے پلانٹ کی وجہ سے ان کی مشکلات کم ہو سکتی تھیں۔ انہیں صحرا کی تیز دھوپ میں (میٹھے پانی کے لیے) میلوں دور نا جانا پڑتا اور بالغ افراد کو بھی صاف میٹھا پانی میسر ہو سکتا تھا۔

تاہم ان کی یہ امیدیں پوری نا ہو سکیں۔ یہ پلانٹ تو نصب کر دیا گیا لیکن یہ کام نا کر سکا۔ اس پلانٹ کے مرکزی دروازے پر ایک بڑا تالا لگا ہوا ہے اور وہ یہاں آنے والوں کو یہ بتاتا ہے کہ یہ عمارت ویران پڑی ہے۔

سندھ حکومت کا دعویٰ ہے کہ انہوں ںے اس علاقے میں پانی صاف کرنے کے لگ بھگ 600 پلانٹ نصب کیے ہیں۔ تاہم مقامی افراد اس بات کی شکایت کرتے ہیں کہ ان میں سے کئی ایک پلانٹ تنصیب کے بعد یا تو کام نہیں کرتے یا وہ مناسب دیکھ بھال نا ہونے کی وجہ سے بیکار پڑے ہیں۔

سندھ حکومت کے مشیر عبدالقیوم سومرو نے کہا کہ حکومت اس بات سے آگاہ ہے کہ ان میں سے ایک تہائی پانی کے پلانٹ غیر فعال ہیں۔ ان کی مرمت کرنے کے لیے ٹیم بھیج دی گئی ہیں لیکن بائی اور تھرپارکر کے کئی دوسرے مکینوں کے لیے صاف پانی کا انتظار اب بھی جاری ہے۔

XS
SM
MD
LG