رسائی کے لنکس

برازیل کا سفارتی آپریشنز کی خفیہ نگرانی کرنے کا اعتراف


برازیل کے خفیہ ادارے نے جاسوسی کے بارے میں صحافیوں کو معلومات فراہم کرنے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

برازیل نے تسلیم کیا ہے کہ اس کے خفیہ ادارے نے امریکہ، روس اور ایران سمیت مختلف غیر ملکی سفارتی آپریشنز کی جاسوسی کی تھی۔

برازیل خود امریکہ کی طرف سے ایسی خفیہ معلومات اکٹھا کرنے پر بھرپور انداز میں تنقید کرتا رہا ہے لیکن اس کی انٹلی جنس ایجنسی ایبن نے ایک بیان میں کہا کہ 2003ء اور ء2004 میں غیر ملکی سفارت خانوں سے متعلق یہ خفیہ نگرانی ملکی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے قومی مفاد کے تحفظ کی غرض سے کی گئی تھی۔

ادارے کی طرف سے یہ اعتراف مقامی اخبار فولہ ڈی ساؤ پاؤلو میں اس خبر کے چند گھنٹوں کے بعد کیا گیا جس میں بتایا گیا تھا کہ حکومت کے اہلکاروں نے کس طرح روسی اور ایرانی سفارتکاروں کا پیچھا کرتے ہوئے ان کی تصاویر بنائیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک کے دارالحکومت برازیلیا میں امریکی حکومت کی پٹے پر حاصل کی گئی کاروباری جائیداد کی بھی نگرانی کی گئی۔

برازیل کے خفیہ ادارے نے اپنے بیان میں جاسوسی کے بارے میں صحافیوں کو معلومات فراہم کرنے کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

برازیل میں قائم امریکی سفارت خانے نے اس اعتراف پر تبصرہ کرنے سے معذرت کی ہے۔

جاسوسی سے متعلق اس انکشاف سے چھ ہفتے قبل برازیل کی صدر جلما روسیف نے امریکہ کا اپنا دورہ منسوخ کر دیا تھا جس کے بعد کچھ امریکی دستاویزات سے متعلق خبریں منظر عام پر آئی تھیں کہ امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) نے روسیف کی الیکٹرانک کمیونیکیشن تک بھی خفیہ رسائی حاصل کر رکھی تھی۔

امریکی عہدیداروں نے این ایس اے کی جانب سے خفیہ نگرانی کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ مشتبہ دہشت گردوں پر نظر رکھنے اور ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے کی گئی تھی۔
XS
SM
MD
LG