رسائی کے لنکس

برازیل: دہشت گردوں سے روابط کا شبہ، ایرانی شہری گرفتار


فائل

فائل

مقامی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ پیکانی کے خلاف گرفتاری اور ملک بدری کا وارنٹ جاری کیا گیا تھا اور جمعے کے روز اُن کو اُس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ بس کے ذریعے یوروگوائے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا

برازیل کی پولیس نے ایک ایرانی شہری کو گرفتار کیا ہے جن پر برازیل کے جنوبی علاقے میں ’ریو گراند دو سول‘ میں واقع چوئی شہر میں دہشت گردی میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ 15 جولائی سے وفاقی پولیس اور برازیل کی انٹیلی جنس ایجنسی پوریہ پیکانی پر نظر رکھ رہی تھی۔

مقامی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ اُن کے خلاف گرفتاری اور ملک بدری کا وارنٹ جاری کیا گیا ہے؛ جب کہ جمعے کے روز پیکانی کو اُس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ بس کے ذریعے یوروگوائے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔

ملک کی وفاقی عوامی وزارت نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بدری کا حکم اس لیے جاری کیا گیا چونکہ برازیل میں اُن کی موجودگی خلاف قانون تھی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’یہ رواجی ضابطہٴ کار ہے، جسے غیر قانونی افراد کے معاملے میں استعمال کیا جاتا ہے، جن کے پاس ملک کا ویزا یا سکونت سے متعلق کاغذات موجود نہ ہوں‘‘۔

’فولہا دی ساؤ پالو‘ نے اطلاع دی ہے کہ پیکانی پر جون میں اُس قانون کے نفاذ کرنے والوں کی نظر پڑی جب وہ ساؤ پالو میں ’گرولہوس ایئرپورٹ‘ کے ’ڈپارچر لاؤنج‘ کی تصاویر کھینچ رہا تھا۔

پولیس کے مطابق، یہ شخص مارچ میں ایرانی پاسپورٹ پر برازیل میں داخل ہوا۔ وہ دو بار گرولہوس گیا اور مزید تصایر اتاریں۔ ’فولہا‘ نے رپورٹ دی ہے کہ پولیس نے پیکانی سے پوچھ گچھ کی، اُن کی سرزنش کی اور رہا کردیا۔

اس کے بعد، حکام نے پیکانی کی تصاویر برازیل کے تمام ہوائی اڈوں کو بھجوائیں اور اولمپک گیمز کی نگرانی پر مامور انٹیلی جنس سروس کو بھی روانہ کیں۔

برازیل کے حکام کے مطابق، ابھی یہ معلوم نہیں آیا پیکانی ممکنہ حملے کی ’’ابتدائی تیاری‘‘ میں براہِ راست ملوث تھا۔

پیکانی کے علاوہ، برازیل کی پولیس نے جولائی میں 10 افراد کو گرفتار کیا تھا، جن پر شبہ تھا کہ وہ ریو ڈی جونئیرو میں عالمی کھیلوں کے دوران حملوں کا منصبوبہ بنا رہے تھے۔

XS
SM
MD
LG