رسائی کے لنکس

برازیل میں تقریباً 14 کروڑ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں اور 18 سے 70 سال کی عمر کے ہر فرد پر ووٹ ڈالنا لازمی ہے۔

برازیل کی صدر ڈلما روسیف دوسری مدت کے لیے بھی ملک کی صدر منتخب ہونے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔

انھیں 51٫45 فیصد ووٹ ملے جب کہ ان کے مدمقابل سینیٹر ایسیونیوس کے حصے میں 48٫55 فیصد ووٹ آئے۔

اس انتخاب کو ڈلما کی ورکرز پارٹی کی پالیسیوں کی مقبولیت اور تصدیق کے طور پر دیکھا گیا جس کے رہنما 2003ء سے ملک میں صدر منتخب ہوتے آرہے ہیں۔

اس جماعت کو سماجی فلاحی پروگراموں اور لاکھوں لوگوں کو غربت سے نکالنے کی کامیاب پالیسیوں پر سراہا جاتا ہے۔

تاہم ڈلما روسیف کے گزشتہ چار سالہ دور میں ملک میں اقتصادی صورتحال خراب اور کساد بازاری دیکھنے میں آئی۔ انھیں برازیل میں منعقدہ فٹبال عالمی کپ میں مبینہ بدعنوانی کی وجہ سے عوامی احتجاج کا بھی سامنا رہا۔

برازیل میں تقریباً 14 کروڑ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں اور 18 سے 70 سال کی عمر کے ہر فرد پر ووٹ ڈالنا لازمی ہے۔

گزشتہ اتوار کو ہونے والے انتخابات میں کوئی بھی امیدوار فتح کے لیے درکار 50 فیصد ووٹ حاصل نہیں کر سکا تھا جس کے بعد 26 اکتوبر کو انتخابات کا دوسرا مرحلہ منعقد کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG