رسائی کے لنکس

باچا خان یونیورسٹی حملے میں ملوث پانچ 'سہولت کار' گرفتار


لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ

لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ

لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے بتایا کہ عادل نامی ایک سہولت کار مستری کا کام کرتا ہے اور اُس نے یونیورسٹی میں کام کے دوران پورا نقشہ بنا کر حملہ آوروں کو دیا۔

پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ہفتے کو ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر حملے میں ملوث پانچ مبینہ سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اُنھوں نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ اس حملے کو افغانستان ہی سے کنٹرول کیا جا رہا تھا اور حملہ آور افغانستان ہی سے پاکستان میں داخل ہوئے۔

’’اس پورے حملے میں چار مرکزی دہشت گرد تھے جن کو مارا گیا اور چار مرکزی سہولت کار تھے۔ دہشت گرد افغانستان میں تیار ہوئے اور طورخم کے راستے اُنھوں نے عام شہری کے طور پر سرحد عبور کی، اور پبلک ٹرانسپورٹ کو استعمال کرتے ہوئے وہ مردان کے علاقے تک پہنچے۔‘‘

لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے بتایا کہ عادل نامی ایک سہولت کار مستری کا کام کرتا ہے اور اُس نے یونیورسٹی میں کام کے دوران پورا نقشہ بنا کر حملہ آوروں کو دیا۔

اُنھوں نے بتایا کہ حملے میں ملوث ایک دہشت گرد کی شناخت ہو چکی ہے جب کہ دیگر تین کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بغیر سہولت کاروں کے کوئی حملہ ممکن نہیں ہے۔

فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک چیلنج ضرور ہے لیکن ’’میرا خیال ہے اس میں مایوسی کی بجائے متحد رہنے کی ضرورت ہے‘‘۔

اُنھوں نے بتایا کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کو اب تک کی تحقیقات سے آگاہ کیا ہے۔

’’کسی بھی مرحلے پر کسی نے یہ نہیں کہا کہ افغان حکومت کی طرف سے ایسی کوئی چیز ہو رہی تھی۔ یہ کہا گیا کہ افغانستان سے یہ کام ہو رہا تھا، جس علاقے سے یہ ہو رہا تھا یہ دہشت گرد وہاں موجود تھا اور اُنھوں وہاں افغان نمبر استعمال کیا اور یہاں رابطہ کیا۔‘‘

عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ ہفتہ کو فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی قیادت میں پشاور میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں انٹیلی جنس ادارے ’آئی ایس آئی‘ ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر سمیت دیگر اعلیٰ عسکری کمانڈروں نے شرکت کی۔

اس اجلاس میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیے جانے والے آپریشن کے علاوہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد کی نگرانی بڑھانے سے متعلق اُمور پر بات چیت کی گئی۔

رواں ہفتے چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر حملے میں 21 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ پوری قوم کی مدد سے ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG