رسائی کے لنکس

چھاتی کا سرطان: آگہی کو فروغ دینے کی کوششیں کی جاری ہیں: مخدوم شہاب الدین

  • بہجت گیلانی

چھاتی کا سرطان: آگہی کو فروغ دینے کی کوششیں کی جاری ہیں: مخدوم شہاب الدین

چھاتی کا سرطان: آگہی کو فروغ دینے کی کوششیں کی جاری ہیں: مخدوم شہاب الدین

وزیر ِ صحت نے کہا کہ صوبوں سے کہا گیا ہے کہ چھاتی کے سرطان کے مرض سےمتعلق تشخیص کے مراکز قائم کریں، اور اس مرض میں مبتلا خواتین کی اسکریننگ کے لیےدیہاتی علاقوں میں موبائل ایمبولینس بھیجنے کا بندوبست کیا جائے

وفاقی وزیر ِ صحت مخدوم شہاب الدین نے کہا ہے کہ پاکستانی خواتین میں ‘چھاتی کے سرطان’ کے مرض کی بروقت اطلاع ،تشخیص اور علاج کےانتظامات کیے جارہے ہیں۔ تفصیلات بتائے ہوئے، اُنھوں نےکہا کہ مرض سے متعلق آگہی اور اطلاع اولین ترجیح کا معاملا ہے جس کے لیے لیڈی ہیلتھ ورکرز اور دائیوں کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں۔

اُنھوں نے یہ بات پیر کے روز‘چھاتی کا سرطان : روک تھام اور علاج معالجے کے طریقے ’کے موضوع پر ہونے والی راؤنڈ ٹیبل میں وائس آف امریکہ سے بات چیت میں کہی۔

ایک سوال کے جواب میں مخدوم شہاب الدین نے بتایا کہ یہ ایک بڑھتا ہوا مرض ہے اورخصوصاً دیہی خواتین میں آگہی کا معاملہ ایک چیلنج کا درجہ رکھتا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پچھلے برس کے سیلاب کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں دیہات میں دستیاب ہر طرح کا بنیادی ڈھانچہ بری طرح متاثرہوا ہے۔

وزیر ِ صحت نے کہا کہ صوبوں کو کہا گیا ہے کہ چھاتی کے سرطان کے مرض سے متعلق تشخیص کے مراکز قائم کریں، اور اس مرض میں مبتلا خواتین کی اسکریننگ کے لیےدیہاتی علاقوں میں موبائل ایمبولینس بھیجی جائیں۔

مرض کے بارے میں آگہی سے متعلق ایک اور سوال کے جواب میں اُنھوں نے کہا کہ میڈیا کے ذرائع سے مدد لی جارہی ہے، اور یہ کہ ایڈز کی طرح اب بریسٹ کینسر کا ذکر اذکار عام ہورہا ہے اور مرض کی اطلاع اور علاج کوئی معیوب بات نہیں سمجھی جاتی۔

پروگرام میں ڈاکٹر شیر شاہ سید، ڈاکٹر نیلم صدیقی اور ڈاکٹر روبینہ سومرو کے علاوہ کینسر کے خلاف نبرد آزما تنظیم ‘پِنک ربن’ کے نیشنل کو آرڈینٹر، عمر آفتاب نے حصہ لیا۔

پروگرام میں کینسر کا مقابلہ کرنے والی دو خواتین نے اپنے تجربات بتائے۔ اِس سلسلے میں، مسز افروز غزالی کا کہنا تھا کہ اب پاکستان میں چھاتی کے سرطان کے علاج کے لیے بہت سی سہولتیں موجودہیں۔ اُنھوں نے خواتین سے درخواست کی کہ کسی جسمانی تکلیف کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹروں سے رجوع کرکے اسکریننگ کرائی جائے اور علاج میں دیر نہ کی جائے۔

صحتیاب ہونے والی دوسری خاتون،پاکستانی نژاد امریکی، شاہین صبیح نے کہا کہ مرض کی علامات ظاہر ہوتے ہی خواتین کو چاہیئے کہ وہ فوری طور پر میموگرام کرائیں اورمتعلقہ ڈاکٹرز کے پاس جانےمیں کسی طرح کی ہچکچاہٹ سے کام نہ لیں۔

XS
SM
MD
LG