رسائی کے لنکس

’پالبوسیسلب‘ رکاوٹ پیدا کرنے والا مادہ ہے جو بعض اقسام کے ’انزائم‘ کو نشانہ بناتا ہے، جس سے سرطان زدہ سیل تیزی سے بکھرتے ہیں۔ یہ پہلی ایسی دوا ہے کہ جس کی چھاتی کے سرطان کے لئے منظوری دی گئی ہے

نئی تحقیق کے مطابق، چھاتی کے سرطان کے علاج کے لئے استعمال ہونے والی دوا دیگر امراض کے لیے بھی کارآمد ہو سکتی ہے۔

’جاما اونکالوجی‘ کے جرنل میں شائع ہونے والی تحریر کے مطابق، پنسلونیا یونیورسٹی کے ’ابرام سن کینسر سینٹر‘ کے محقیقن کہتے ہیں کہ دستیاب ادب کا جائزہ لینے اور ان کی اپنی تحقیق کے مطابق، چھوٹے زخم ہوں تو صحتمند سیل کو نقصان پہنچائے بغیر ’پالبوسیسلب‘ دوسرے اقسام کے کینسر سیل پر بھی حملہ کر سکتا ہے۔

’پالبوسیسلب‘ رکاوٹ پیدا کرنے والا مادہ ہے جو بعض اقسام کے ’انزائم‘ کو نشانہ بناتا ہے، جس سے سرطان زدہ سیل تیزی سے تقسیم ہوتے ہیں۔ یہ پہلی ایسی دوا ہے کہ جس کی چھاتی کے سرطان کے لئے منظوری دی گئی ہے۔

مصنف اور ’پین پیرالمن اسکول آف میڈیسن‘ میں رسولیوں اور خون کے امراض کی ماہر، اسسٹنٹ پروفیسر ایمی ایس کلارک کے مطابق، تمام دستیاب سیل تقسیم ہو رہے ہوتے ہیں اور ’پالبوسیسلب‘ میں یہ منفرد خصوصیت ہے کہ وہ اس تقسیم کے عمل کو روک دیتا ہے۔ اس میں امکانی طور پر وسیع اطلاق پزیری ہوتی ہے‘۔ پالبوسیسلب کے مختلف کینسر تھراپی کے ساتھ طاقتور مرغوبہ بنائے جانے کی صورت میں مختلف اقسام کے سرطان پر اثرانداز ہوا جا سکتا ہے۔

محقیقن کا کہنا ہے کہ یہ دوا پیپ دار نرم رسولی، خلیوں کی درمیانی تہ والی رسولی اور جین کی ماخذ میں موجود رسولی کے لئے، جو کہ گرچہ بہت کم ہوتے ہیں، لیکن نوجوانوں کو متاثر کرتے ہیں، کارآمد ثابت ہوئی ہے۔

محقیقین کا مزید کہنا ہے کہ کینسر کی دوا کے دوسرے تجربات میں روزانہ ایک خوراک دینے سے، دوا محفوظ ثابت ہوئی ہے۔ لیکن، اس کے منفی اثرات میں خون کے سفید خلیوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

تاہم، محقیقن کا کہنا ہے کہ عارضی طور پر دو کے استعمال کو روک کر اس ’سائیڈ افیکٹ‘ سے بھی بچا جاسکتا ہے، بعد میں کم خوراک کے ساتھ علاج دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG