رسائی کے لنکس

چھاتی کا سرطان: تحقیق و علاج معالجے میں پیش رفت

  • خالد حمید

چھاتی کا سرطان: تحقیق و علاج معالجے میں پیش رفت

چھاتی کا سرطان: تحقیق و علاج معالجے میں پیش رفت

معالجوں کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مرض کی تشخیص جلد از جلد ہو، تاکہ علاج معالجہ کسی تاخیر کا شکار نہ ہو: ڈاکٹر ذیشان شاہ

امریکی شہر ڈیلس کیBaylor Universityکے میڈیکل سینٹر سے وابستہ ممتاز ریڈیولوجسٹ، ڈاکٹر ذیشان شاہ کہتے ہیں کہ ’بریسٹ کینسر‘ دنیا بھر میں ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جس کی ابتدائی علامات واضح نہیں ہوتیں، اِسی لیے اکثرو بیشتر، علاج میں تاخیر ہوجاتی ہے۔

ڈاکٹر ذیشان شاہ

ڈاکٹر ذیشان شاہ

اُنھوں نے کہا کہ ’چھاتی کے سرطان‘کے علاج سے متعلق معالجوں کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مرض کی تشخیص جلد از جلد ہو، تاکہ علاج میں کوئی تاخیر نہ ہونے پائے۔

ڈاکٹر ذیشان نے’وائس آف امریکہ‘ سےانٹرویومیں کہا کہ بنیادی طورپروہ ایک Radiologist ہیں، لیکن اُن کی specialityبریسٹ imaging ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ امریکہ میں یہ بات معالجوں کی طرف سے ایک بنیادی مشورے کا درجہ رکھتی ہے کہ ہر عورت جس کی عمر 48برس سے زائد ہو اُسے ہر سال ’میموگرافی‘ یعنی چھاتی کا ایکسرے کرانا چاہیئے اور اُس کا ایک حصہ ’بریسٹ الٹرا ساؤنڈ‘ بھی ہے، جس کے ذریعے چھاتی کے سرطان کی تشخیص ممکن ہوتی ہے، جس کے بعد ’نیڈل بایو آپسی‘ یا سرجری کے مرحلے آتے ہیں۔

یہ معلوم کرنے پر کہ کیا مرض پر کنٹرول ہو رہا ہے، ڈاکٹر ذیشان نے بتایا کہ پچھلے پانچ برس کے دوران اِس سلسلے میں خاصی پیش رفت ہوئی ہے، اور یہ کہ، میموگرافی کرانے سے اموات کی تعداد میں کافی کمی واقع ہوئی ہے۔

تفصیل کے لیے، آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG