رسائی کے لنکس

بریسٹ کینسر کی ویکسین کا آزمائشی استعمال جلد شروع ہوجائے گا


بریسٹ کینسر کی ویکسین کا آزمائشی استعمال جلد شروع ہوجائے گا

بریسٹ کینسر کی ویکسین کا آزمائشی استعمال جلد شروع ہوجائے گا

امریکی ریاست اوہائیو کے کلیولینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ایک سائنس دان نے کہا ہے کہ 40 سال سے زیادہ عمر کی تمام خواتین ایک ویکسین کی مدد سے بریسٹ کینسر سے محفوظ رہ سکتی ہیں۔

ڈاکٹر ونسینٹ ٹوہائی کا کہنا ہے کہ اس ویکسین کا آزمائشی استعمال ایک سال کے اندراندر شروع ہوجائے گا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ ویکسین کینسر کے ٹیومرز کو کامیابی کے ساتھ بڑھنے سےروک دیتی ہے اور وہ دوبارہ کبھی ظاہر نہیں ہوتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جی پی ایس نامی یہ دوا اگر کامیاب رہی تو اسے خواتین کو 45 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے دیا جاسکے گا ۔ یہ وہ عمر ہے جس میں خواتین میں بریسٹ کینسر کے شروع ہونے کا خطرہ بڑھنا شروع ہوجاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ دوا بریسٹ کینسر کی مختلف اقسام کو 70 فی صد تک ختم کرسکتی ہے اور صرف برطانیہ میں ہر سال آٹھ ہزار سے زیادہ زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں۔

ڈاکٹر ونسنٹ ٹوہائی ، جنہوں نے یہ دوا تیار کی ہے، کہتے ہیں کہ اس دوا کی مدد سے بریسٹ کینسر کے خلاف نمایاں طورپر بچاؤ اور اس سے مکمل طورپر چھٹکارا ممکن ہوسکے گا۔

وہ کہتے ہیں کہ ہمیں یقین ہے کہ بریسٹ کینسر سے بچاؤ کی یہ ویکسین ، اس مرض کے لیے اسی طرح کارگر ہوگی جس طرح کہ پولیو کی ویکسین پولیو کے مرض کے لیے ثابت ہوئی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ہمیں یقین ہے کہ بریسٹ کینسر سے مکمل طورپر بچاجاسکتا ہے۔

یہ ویکسین الفا لیکٹل بیومن نامی ایک پروٹین پر مبنی ہے جو بریسٹ کینسر کے بیشتر ٹیومرز میں موجود ہوتا ہے۔

جریدے نیچرل میڈیسن میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس ویکسین کے تجربات 10 ماہ کی عمر تک پہنچنے والی چوہیوں پر کیے گئے، جو ان میں بریسٹ کینسر کے پیدا ہونے کی ممکنہ عمر ہے۔ تجربات میں شامل چوہیاں اس دوا کے استعمال سے کینسر سے محفوظ رہیں۔

یہ دوا جسم کے دفاعی نظام کو متحرک کرتی ہے اور الفا لیکٹل بیومن کو تباہ کردیتی ہے اور اس طرح ٹیومر کو بننے سے روک دیتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دوا پر کیے جانے والے تجربات سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ اس کی مدد سے جسم کا معدافتی نظام اتنا طاقت ور ہوجاتا ہے کہ وہ پہلے سے موجود ٹیومرز کو نصف تک کم کردیتا ہے ، چنانچہ یہ دوا بریسٹ کینسر کے علاج کے ساتھ ساتھ اس سے بچاؤ کے لیے بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔

کینسر کی مؤثر حفاظتی ویکسین تیار کرنا اب تک اس لیے مشکل ثابت ہوا ہے کیونکہ ٹیومر کے خلیے نمایاں طورپر صحت مند خلیوں سے ملتے جلتے ہیں۔ کینسر کے مرض کے لیے اب تک تیار کی جانے والی دوائیں جسم کے معدافتی نظام اور صحت مند خلیوں کو بھی بری طرح نقصان پہنچاتی ہیں۔ اور معدافتی نظام کمزور ہونے سے کینسر کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔لیکن یہ نئی دوا صرف ایسے خلیوں کو اپنا ہدف بناتی ہے جو کینسر کا باعث بن سکتے ہیں۔

ڈاکٹر ونسنٹ کہتے ہیں کہ اس کامیابی کے بعد دوسری اقسام کے کینسرز کے لیے بھی حفاطتی دوائیں تیار کرنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

انہیں توقع ہے کہ اگلے سال خواتین پر اس دوا آزمائشی استعمال شروع ہوجائے گا۔ اور اسے بڑی تعداد میں خواتین پر ایک طویل عرصے تک استعمال کے بعد اس دوا کو مارکیٹ تک آنے میں دس سال لگ سکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG