رسائی کے لنکس

پاکستان میں چھاتی کا کینسر بڑھ رہا ہے


چھاتی کے کینسر کا شکار خواتین، اب دیگر خواتین کو اس سے بچاؤ کے بارے میں آگاہ کررہی ہیں۔

چھاتی کے کینسر کا شکار خواتین، اب دیگر خواتین کو اس سے بچاؤ کے بارے میں آگاہ کررہی ہیں۔

ماہرین صحت کہتے ہیں کہ " آئندہ سالوں میں پاکستان ہر سات میں سے ایک خاتون کو چھاتی کے کینسر ہونے کا خدشہ ہے'۔ رپورٹ میں شامل ہیں چھاتی کے کینسرکا شکار خواتین سے گفتگو

کراچی کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال کے کینسر وارڈ میں پچیس سالہ نادیہ ۔ ۔ بڑی عمر کی خواتین مریضوں کےساتھ زیر علاج ہے۔ نادیہ کو چھاتی کا کینسرہے نادیہ اس وارڈ کی سب سے کم عمر مریضہ ہے ۔

صوبہ سندھ کے اندرون شہر ڈھرکی کے ایک گاوں کی رہائشی نادیہ نے وی او اے کو بتایا کہ " مجھے پتہ ہی نہیں چل سکا کہ چھاتی کا کینسر بھی کوئی بیماری ہے جو خواتین میں ہوتی ہے۔ میری تین ماہ سےطبیعت خراب رہتی تھی، کمزوری گھبراہٹ اور بخار رہتاتھا۔ مگر کوئی بروقت علاج نہیں مل سکا۔

میں اپنے گاؤں اور دیگر شہروں میں تین ماہ تک ڈاکٹر بدلتی رہی, ڈاکٹر دوائی دیتے اور میں گھر چلی جاتی۔ پھر جب کراچی علاج کیلئے آئی تو ڈاکٹروں نے کہا کہ ٹیسٹ کراؤ تو معلوم ہوا مجھے چھاتی کا کینسر ہے"۔

پاکستان میں اکثر یہ خیال تصور کیاجاتا ہے کہ چھاتی کا کینسر بڑی عمر کی خواتین میں ہوتا ہے۔ اب پاکستان میں نوجوان لڑکیاں بھی اس خطرناک کینسر کا شکار ہو رہی ہیں۔

کینسر وارڈ کی ایک اور مریضہ وقارالنساء پیشے سے استاد رہی ہیں۔ ساٹھ برس کی عمر میں وہ چھاتی کے کینسر کےساتھ اپنی زندگی کی جنگ لڑرہی ہیں۔ وقار النساء نے وی او اے سے گفتگو میں بتایا کہ " مجھے سینے میں ایک گھٹلی سی محسوس ہونے لگی تھی، ایک مہینہ گزرگیا تو میں نے سوچا اب ڈاکٹر کو دکھادینا چاہئے میں نے شوہر سے بات کی اور اسپتال میں دکھایا"۔

وقارالنساء کے بقول "مجھے دوسرے اسٹیج پر معلوم ہوا تھا کہ مجھے چھاتی کا کینسر ہے، اسوقت تک یہ کینسر میرے بازو کے نیچے تک پھیل چکا تھا، اب علاج چل رہاہے ڈاکٹر کاکہنا ہے کہ میں ٹھیک ہوجاؤں گی"۔

ان کے مطابق" اب میں دوسری خواتین کو اس بیماری کےبارے میں بتاتی ہوں۔ گھر کی خواتین شرم کی وجہ سےمیرے بارے میں اور چھاتی کے کینسر کا کسی سے تذکرہ نہیں کرتیں مگر میں آگاہی کیلئے بتاتی ہوں کہ میری جیسی خواتین کو اس بارے میں پتہ ہونا چاہئے۔ بہت سے لوگوں کو معلوم نہیں ہوتا اور وہ موت کی طرف چلےجاتے ہیں"۔

ان کے شوہر محمد کا کہنا ہے کہ "خواتین جتنی بھی پڑھ لکھ جائیں وہ ذاتی نوعیت کی چیزوں کو چھپاتی ہیں، جب مجھے معلوم ہوا کہ وہ تکلیف میں ہے تو میں نے بجائے کسی اور خاتون کو ساتھ بھیجنے کے فوری طور پر خود سرجن سے ملا اورانھیں چیک اپ کیلئے لیکر گیا۔ ایسے وقت میں گھروالوں کی سپورٹ مریض کا سب سے بڑا سہارا ہے"۔

وہ بتاتے ہیں کہ' کینسر کے مریض کو مایوس نہیں ہونا چاہئے' یہی اسکا علاج ہے اور جلد تشخیص سے کینسر کا علاج ممکن ہے"۔

ایسی ہی خواتین میں شیلا نامی خاتون بھی اس وارڈ میں زیر علاج ہیں۔ کیموتھراپی کےباعث شیلا کی دونوں بھنویں اور بال جھڑ چکے ہیں۔ تین بچوں کی ماں شیلا لاڑکانہ سے علاج کیلئے کراچی آئی ہیں۔ شیلا کی عمر اس وقت اکتالیس برس ہے۔ وہ بھی وارڈ کی دیگر خواتین کی طرح چھاتی کے کینسر کا شکار ہیں۔

شیلا کا کہنا ہے کہ " اکثر خواتین کے گھر والے یہ کہہ کرچھوٹ جاتےہیں کہ وہم ہے کوئی بیماری نہیں، اندرون سندھ میں ڈاکٹر اور علاج نہ ہونے سے علاج میں مشکل ہوئی اور دن گزرتے گئے ۔ ۔ ۔عام ڈاکٹر اس مرض کو نہیں سمجھ سکے اور میرا کینسر دوسرے اسٹیج پر آگیا"۔

ان کا کہنا ہے کہ" یہ ایک انتہائی تکلیف دہ مرحلہ ہے۔ میں یہ کہتی ہوں کہ خواتین اپنی صحت سے جڑی کسی تکلیف کو معمولی نہ سمجھیں"۔

کراچی کے کینسر اسپیشلسٹ ڈاکٹر نور محمد کہتے ہیں کہ "پاکستان میں آئندہ برسوں میں ہر سات میں سے ایک خاتون کو چھاتی کا کینسر ہونے کا خدشہ ہے"۔

کراچی کےسول اسپتال کے کینسر وارڈ کے سربراہ کینسر اسپیشلسٹ ڈاکٹر نور محمد نے وائس آف امریکہ کو بتایا" کم عمرلڑکیوں میں چھاتی کا کینسر سامنے آ رہا ہے ۔ غیرشادی شدہ نوجوان لڑکیوں میں ایسے کینسر کی شرح 22 فیصد کے لگ بھگ ہے"۔

ان کا کہنا ہے کہ " نوجوان لڑکیوں میں چھاتی کے کینسر کا بڑا سبب یہ ہے کہ لڑکیاں جلدی عمر بلوغت کو پہنچ رہی ہیں جسکی وجہ ہارمونز والی غذائی اشیا کا استعمال ہے۔ ہم اکثر جو غذا لے رہے ہیں اسمیں ملاوٹ اور کیمیائی عناصر کا زیادہ استعمال ہے جو جسمانی اعضاء پر اثرانداز ہوتاہے یا اسکے دیگر اثرات بانجھ پن اور خواتین کی صحت کے دیگر مسائل کی صورت میں بھی سامنے آتے ہیں"۔

کینسر اسپیشلسٹ نے وی او اے سے گفتگو میں بتایا " پاکستان میں خواتین ڈاکٹرز کی کمی بھی ایسے مسائل میں پیچیدگیاں پیدا کررہی ہے جس میں اکثر خواتین مرد ڈاکٹروں سے علاج کیلئے راضی نہیں ہوتی ہیں۔ اکثر خواتیں دیہات سے خواتین آتی ہیں کیونکہ وہاں وسائل کی کمی ہے۔ اس بیماری کیلئے حکومتی کوششیں ناکافی ہیں۔ مریض ایسے معالجین تک پہنچتے پہنچتے دوسرے سے تیسرے اسٹیج پر آجاتاہے"۔

پاکستان کی ماہر بریسٹ کینسر سرجن ڈاکٹر روفینہ سومرو کہتی ہیں کہ " پاکستان میں دوسرے ممالک کی نسبت خواتین میں چھاتی کے کینسر کا رجحان کافی زیادہ ہے۔ ملک میں دیگر ممالک کی نسبت 40 سال کی عمر سے کم خواتین میں اس کینسر کے کیسز زیادہ رپورٹ ہو رہے ہیں ۔ ۔ جبکہ دوسرے ممالک میں یہ کینسر خواتین میں 50 یا 60 برس کی عمر کے بعد سامنے آتا ہے"۔

ڈاکٹر روفینہ کے مطابق "" پاکستان میں اس مرض کی ابتدائی تشخیص نہ ہونا ایک 'بڑا چیلنج' ہے۔ پچاس فیصد خواتین چھاتی کے کینسر کے'اسٹیج ٹو' میں معالجین سے رجوع کرتی ہیں، جب تک تکلیف نہ ہو، خواتین اس پر توجہ نہیں دیتیں، آگاہی کی کمی، خواتین کا چھپانا ابھی بھی ایک بڑا معاشرتی مسئلہ ہے"۔

روفینہ کے بقول اب اس بارے میں آگاہی بڑھی ہے مگر ابھی بھی خواتین میں صحت کی تعلیم کی کمی ہے ۔ خواتین دیر سے اسپتال آتی ہیں مگر پہلے سے کینسر کی تشخیص نہ ہو تو ایسے میں خواتین کا کینسر سے بچنا ناممکن ہو جاتا ہے"۔

" ایسے کیسز میں خواتین اگر محسوس بھی کرتی ہیں تو وہ اپنے گھر کے مردوں سے اس مسئلے پر بات کرنے سے گریز کرتی ہیں اس پر بات کرنا بھی پاکستان میں خواتین ایک مشکل مرحلہ ہے۔ دوسری جانب خواتین دیگر متبادل علاج ڈھونڈتی ہیں جس میں عطائی ڈاکٹرز، پیری فقیری اور حکیموں کے نسخے ہوتے ہیں"۔

پاکستان میں خواتین میں خطرناک مرض چھاتی کے کینسر کے حوالے سے گفتگو میں روفینہ سومرو نے کہا"خواتین کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ پر توجہ دیں۔ اگر اپنے جسم میں کوئی بھی تبدیلی محسوس کریں تو مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ جبکہ گھر کے مردوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ اپنے گھر کی خواتین کو ایسا مسئلہ درپیش ہو تو بروقت سپورٹ کریں"۔

ہر سال پاکستان میں ہزاروں خواتین بریسٹ کینسر کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اس مرض کا باقاعدہ کوئی نیشنل اسکریننگ پروگرام موجود نہیں ہے۔

قومی سطح پر ایسے مریضوں کے ریکارڈ مرتب کرنے کا کوئی نظام موجود نہیں ہے تو سالانہ سطح پر اسکی اموات کا ریکارڈ موجود نہیں کہ کتنی خواتین سالانہ اس مرض کے باعث انتقال کرگئیں تعین کرنا مشکل ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں میں خواتین بریسٹ کینسر کے سبب بغیر علاج کے انتقال کرجائیں تو ایسی اموات رپورٹ ہی نہیں ہوسکتی وہ طبعی موت میں شمار ہوتی ہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر سال اکتوبر کا مہینہ' بریسٹ کینسر سے آگاہی' کے طور پر منایاجاتا ہے۔ اس ماہ کو منانے کا مقصد خواتین میں چھاتی کے کینسر کے بارے میں آگاہی پیدا کرکے خواتین کی اموات کو روکنا ہے۔

پاکستانی ماہرین طب کہتے ہیں کہ گزشتہ برسوں کی نسبت خواتین میں اس مرض سے متعلق آگاہی تو پیدا ہوئی ہے مگر اب بھی قومی سطح پر اس مرض سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے حکومتی سطح پر صحت سے متعلق مزید سہولتیں اور وسائل پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس مرض کے سبب اموات کو روکا جاسکے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG