رسائی کے لنکس

یہ بات برازیل کی 'فیڈرل یونیورسٹی آف پیلوٹاس' سے وابستہ محققین کے اخذ کردہ نتائج پر مبنی ہے۔ اس مطالعاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچہ جتنی دیر ماں کا دودھ پیتا ہے،اس کا بچے کی نشوونما اور مستقبل پر دوررس اثر پڑتا ہے

ایک جائزہ رپورٹ میں ماہرین نے پیشن گوئی کی ہےکہ ماں کا دودھ پینے والے بچے بالغ ہونے پر زیادہ ذہین اور دولت مند ہوں گے۔

ماں کے دودھ کے فوائد کے حوالے سے شائع ہونے والےمطالعے میں ماں کےدودھ پلانے اور بچےکی ذہانت کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی گئی ہے۔

برازیل کی 'فیڈرل یونیورسٹی آف پیلوٹاس' سے وابستہ محققین نے حاصل ہونے والے نتائج سے اخذ کیا ہےکہ بچہ جتنی دیر ماں کا دودھ پیتا ہے، اس کا بچے کی نشو و نما اورمستقبل پر دوررس اثر پڑتا ہے۔

اس طویل مدتی مطالعے کے مطابق، جن بچوں کو بچپن میں زیادہ دیر ماں کا دودھ ملا، ان کا جوانی میں آئی کیو زیادہ تھا، جبکہ مجموعی طور پر،ان بچوں میں دوسرے بچوں کےمقابلےمیں اعلی تعلیم یافتہ ہونےاور اچھی آمدنی کمانے کے امکانات بھی زیادہ روشن تھے۔

سائنسی رسالے'لینسیٹ گلوبل ہیلتھ۔' کی نئی تحقیق میں محققین نے برازیل کے مختلف سماجی اور اقتصادی خاندانوں کے 1982ء میں پیدا ہونے والے 3,500 بچوں کی 30 سال تک پیروی کی، جس میں میں 12 ماہ کی رضاعت کا موازنہ 1 ماہ سے کم دودھ پلانے کی مدت کے ساتھ کیا گیا۔

تحقیق کاروں نے مطالعے میں رضاعت کےعلاوہ، ذہانت پر اثرا انداز ہونے والے بنیادی عوامل مثلاً بچے کی پیدائش کے وقت والدین کی آمدنی، ان کی تعلیم، موروثی جین، ماں کی عمر، پیدائش کے وقت بچے کا وزن اور دیگرمعلومات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنا تجزیہ پیش کیا ہے۔

محققین نے مطالعےمیں شامل بچوں سےبالغ عمر 30 سال کا ہونے پر ذہانت کا ٹیسٹ لیا۔

مصنفین کےفیصلے کے مطابق ماں کا دودھ زیادہ مدت تک پینے والے بچوں نےآئی کیو ٹیسٹ میں اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس سے پتہ چلا کہ 30 سال کے نوجوان کے زیادہ آئی کیو تعلیم اور آمدنی کا بچے کی دودھ پینے کی مدت کے ساتھ تعلق ہے۔

مطالعے کے نتائج میں محققین نے12 ماہ کی رضاعت کو آئی کیو ٹیسٹ کے 4 اضافی نمبروں کے ساتھ جوڑا ہے، اسی طرح رضاعت کو لگ بھگ ایک سال کی اضافی تعلیم اور برازیلی کرنسی میں 341 ماہانہ آمدنی میں اضافے کےساتھ منسلک کیا ہے۔

ڈاکٹر برنارڈو لیسا یورٹا جو تحقیق کے مصنف ہیں کہتے ہیں مطالعے کی خاص بات یہ تھی کہ یہ نتیجہ تمام سماجی اور اقتصادی گھرانوں میں پایا گیا، جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا تعلق صرف تعلیم یافتہ اور امیر خاندانوں کے بچوں پر نہیں تھا بلکہ ہر طرح کے خاندانوں میں یکساں برقرار تھا۔

ڈاکٹر برنارڈو نے تجویز کیا کہ 'ماں کے دودھ میں پائے جانے والے فائدہ مند اثرات کا بنیادی میکانزم دودھ میں موجود بھاری فیٹی ایسڈ کی مقدار میں چھپا ہوسکتا ہے جو بچوں کے دماغ کی نشوونما اور ترقی کے لیے بے حد ضروری ہے'

ڈاکٹر برنارڈو نے خیال ظاہر کیا کہ بچےکا رضاعت کےدوران ماں سے اضافی رابطے میں رہنا بھی اس کی ایک وجہ ہوسکتی ہے یا پھر ہو سکتا ہے دودھ میں موجود ہارمون اور مرکبات کی منتقلی اس ممکنہ فائدے کے ساتھ منسلک ہے۔

XS
SM
MD
LG