رسائی کے لنکس

بقول اُن کے، ’یورپ کے کئی ایک پارٹنر ملک شام و عراق جانے اور واپس آنے والے افراد کی صورت میں درپیش چیلنج سے نبردآزما ہیں، اس لیے اِن افراد کا مشاہدہ کرنا اور کڑی نظر رکھنا بڑی آزمائش کا کام ہے‘

سی آئی اے کے سربراہ، جان برینن نے کہا ہے کہ امریکہ نے داعش کے شدت پسند گروپ کی شیطانی قوت کا غلط اندازہ نہیں لگایا۔

برعکس اس کے، برینن نے عراق اور شام کے اندر اس گروپ کی پیش قدمی کو روکنے میں کامیابی کا سہرا امریکی قیادت والے اتحاد کی جانب سے کی جانے والی کارروائی کے سر قرار دیا، اور یہی سبب ہے کہ اس انتہا پسند گروہ نےاب اپنے حملوں کا رُخ بیرون ملک کی جانب پلٹا ہے۔

اُنھوں نے یہ بیان واشنگٹن کے تھنک ٹینک، ’سینٹر فور اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز‘ سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔

ایسے میں جب یہ بات ’ناگزیر‘ ہے کہ داعش کے شدت پسند ایسے حملے کرنے کی کوشش کریں گے، بقول برینن، ’میرے نزدیک، یہ ضروری نہیں کہ وہ کامیاب ہوں گے‘۔

بقول اُن کے، ’یورپ کے کئی ایک پارٹنر ملک شام و عراق جانے اور واپس آنے والے افراد کی صورت میں درپیش چیلنج سے نبردآزما ہیں، اس لیے اِن افراد کا مشاہدہ کرنا اور کڑی نظر رکھنا بڑی آزمائش کا کام ہے‘۔
ایسے میں جب فرانسیسی اہل کار اس بات کی چھان بین میں لگے ہوئے ہیں کہ یہ حملہ کیسے ہوا، برینن کے بقول، ’میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ ہمیں حکمت عملی سے متعلق انتباہ موصول ہوا تھا کہ اس قسم کا حملہ ہو سکتا ہے۔ ہمیں پتا تھا کہ ایسا منصوبہ موجود ہے یا دولت اسلامیہ کی سازش ہے کہ وہ خاص طور پر یورپ میں ایسے حملوں کا سوچ رہے ہیں‘۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ’گذشتہ متعدد سالوں کے دوران، بغیر اجازت لیے انکشافات کے باعث ، اور حکومت کے کردار پر نکہ چینی کہ اِن دہشت گردوں کو تلاش کیا جائے، پالیسی سے متعلق اور قانونی سطح پر کئی اقدام کیے گئے ہیں، جن کے نتیجے میں ہماری استعداد، بحیثیت مجموعی اور بین الاقوامی طور پر کارگر ثابت ہوئی ہے، جن کا مقصد دہشت گردوں کا پتا لگانا ہے، جو کام مشکل ہوتا جا رہا ہے‘۔

سی آئی اے کے سربراہ نے کہا ہے کہ پیرس کے یہ حملے خودکش حملہ آوروں نے کیے، جو دھماکہ خیز جیکٹیں پہنے ہوئے تھے، جن حملوں کی باقاعدہ سازش کی گئی اور عمل درآمد کیا گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ ،’میں خوب جانتا ہوں کہ یہ اکیلی کارروائی نہیں جو داعش نے رچائی ہے‘، جس دہشت گرد گروپ نے شام اور عراق میں ایک بڑے رقبے تک تسلط جما لیا ہے۔

XS
SM
MD
LG