رسائی کے لنکس

برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی، پارلیمنٹ سے منظوری لینے کا حکم


برطانوی اٹارنی جنرل جرمی رائٹ یورپی یونین سے علیحدگی کے معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بیان دے رہے ہیں۔ 24 جنوری 2017

اٹارنی جنرل جرمی رائٹ نے فیصلے کے بعد کہا کہ حکومت سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کے لیے وہ سب کچھ کرے گی جو وہ کر سکتی ہے۔

برطانیہ کی سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ برطانیہ کا یورپی یونین سے اخراج کا فیصلہ پارلیمنٹ کی منظوری سے کیا جائے۔

سپریم کورٹ کے صدر ڈیوڈ نیوبرگر نے فیصلہ سنایا۔

سپریم کورٹ کے 8 ججوں نے فیصلے کے حق میں اور تین نے مخالفت میں رائے دی۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے یہ چیز اپنے سامنے رکھی کہ یورپی یونین سے اخراج برطانوی قانون کے ایک ذریعے کو منقطع کرے گا اور برطانوی شہریوں کے طور پر ان کے حقوق تبدیل کر دے گا۔

وزیراعظم ٹریسا مے کی حکومت چاہتی تھی کہ وہ یورپی یونین کے معاہدے کی شق 50 کے تحت اپنے اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے یورپی یونین سے اخراج کا عمل شروع کر دے۔

اٹارنی جنرل جرمی رائٹ نے فیصلے کے بعد کہا کہ حکومت سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کے لیے وہ سب کچھ کرے گی جو وہ کر سکتی ہے۔

پچھلے سال ہونے والے ایک ریفرنڈم میں معمولی اکثریت سے ووٹروں نے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

اٹارنی جنرل رائٹ نے منگل کے روز کہا کہ اب ووٹروں کے فیصلے پر عمل درآمد ایک سیاسی معاملہ بن گیا ہے اور قانونی نہیں رہا۔

XS
SM
MD
LG