رسائی کے لنکس

افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا صرف 'پاکستان کی ذمہ داری نہیں'


چار فریقی گروپ کا اجلاس (فائل فوٹو)

چار فریقی گروپ کا اجلاس (فائل فوٹو)

دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے کہا کہ " ہم یہ مشورہ بھی دیں گے کہ الزام تراشیوں سے صرف ان (عناصر) کو فائدہ ہوگا جو افغانستان میں امن و استحکام نہیں چاہتے۔

پاکستان نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام کے لیے وہ اپنے عزم پر قائم ہے اور الزام تراشیاں صرف ایسے عناصر کے لیے فائدہ مند ہوں گی جو امن نہیں چاہتے۔

جمعرات کو اسلام آباد میں ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان پڑوسی ملک افغانستان میں امن و استحکام کے لیے سنجیدہ اور مسلسل کوششیں اور مصالحتی عمل میں معاونت فراہم کرتا آیا ہے۔

لیکن ان کا کہنا تھا کہ مذاکراتی عمل کے لیے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا اکیلے اسی کی ذمہ داری نہیں۔

" ہم بارہار زور دیتے آئے ہیں کہ طالبان اور دیگر (گروپوں) کو مذاکرات کی میز پر لانا صرف پاکستان کی ذمہ داری نہیں۔ افغانستان میں امن و مصالحت (چارفریقی گروپ کے) تمام ارکان کا مشترکہ عزم ہے۔"

پاکستان، افغانستان، امریکہ اور چین کے نمائندوں پر مشتمل گروپ نے گزشتہ دسمبر میں اپنے قیام کے بعد سے مصالحتی عمل کی بحالی کے لیے کوششیں شروع کر رکھی ہیں لیکن مستقبل قریب میں مذاکراتی سلسلے کے دوبارہ بحال ہونے کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔

افغان مذاکراتی عمل کے ایک اہم فریق طالبان نے اپنی پیشگی شرائط کی منظوری تک حکومت سے بات چیت سے انکار کر رکھا ہے۔

گزشتہ ہفتے ہی افغانستان کے صدر اشرف غنی نے برطانوی نشریاتی ادارے سے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ان کے بقول ایک غیر اعلانیہ جنگ جاری ہے جسے ختم کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے پاکستان سے بات چیت میں مسائل کی شناخت کر دی۔

افغانستان کی طرف سے پہلے بھی اپنے ہاں حکومت مخالف شدت پسندوں کی پشت پناہی کا الزام پاکستان پر عائد کیا جاتا رہا ہے جس کی اسلام آباد تردید کرتا آیا ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے اس ضمن میں اپنے ملک کے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ " ہم یہ مشورہ بھی دیں گے کہ الزام تراشیوں سے صرف ان (عناصر) کو فائدہ ہوگا جو افغانستان میں امن و استحکام نہیں چاہتے۔ افغانستان میں امن و استحکام پاکستان کے مفاد میں ہے۔"

پاکستان اور افغانستان کی حالیہ بیان بازی کو مبصرین عدم اعتماد کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

سینیئر تجزیہ کار پروفیسر خادم حسین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس عدم اعتماد کی بڑی وجہ خطے کے ممالک میں اسٹریٹیجک مفادات پر بات چیت کے عمل کا نہ ہونا ہے۔

2014ء میں اشرف غنی کے افغان صدر کا منصب سنبھالنے کے بعد پاکستان کے ساتھ جنگ سے تباہ حال اس ملک کے تعلقات ماضی کی نسبت بہتر ہونا شروع ہوئے تھے اور دوںوں کے مابین کئی اعلیٰ سطحی رابطے بھی تواتر سے ہوتے آ رہے ہیں جنہیں امریکہ افغانستان اور خطے کے امن کے لیے خوش آئند قرار دیتا ہے۔

تاہم اب بھی دونوں ملکوں کی طرف سے مختصر وقفوں کے ساتھ دشنام ترازی کا سلسلہ بھی دیکھنے میں آتا رہتا ہے۔

XS
SM
MD
LG